صہیب اقبال

ملتان شہر کو تاریخی حیثیت حاصل ہے اس میں مختلف حکمرانوں نے حکومت کی جبکہ مختلف مذاہب کے ماننے والے بھی اس شہر میں رہے اور اس لحاظ سے اہم مذہبی مقامات بھی اس شہر میں موجود ہیں ۔کسی بھی شہر یا خطے کا تاریخی ورثہ اس کی پہچان ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں حکومتوں کی جانب سے تاریخی ورثوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے کہیں سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی ۔

 

ملتان شہر سے بیس کلومیٹر شمال مشرق کی طرف ایک علاقہ بدھلہ سنت ہے ۔ بدھلہ سنت میں تیرہ سو سال قبل ہندو بادشاہ راجہ داہر کا تعمیر کردہ تالاب موجود ہے لیکن یہ تالاب انتظامیہ کی بے حسی کے باعث اب جوہڑ کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔

تاریخ دان ڈاکٹر حنیف محمد نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدھلہ سنت کا نام ہندو مذہبی پیشوا “بدھلہ ” کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ بدھلہ سنت میں واقع تاریخی تالاب سے کچھ فاصلے پر راجہ داہر کی جانب سے تعمیر کردہ مندر کے آثار آج بھی موجود ہیں ۔ جہاں اب شاہ رکن عالم ٹاؤن کی مصالحتی انجمن ، یونین کونسل آفس اور ڈاکخانہ کی عمارت بھی تعمیر ہے ۔

پنجاب حکومت کے مختلف سرکاری محکمے بدھلہ سنت میں اس تاریخی ورثہ کو محفوظ نہ رکھ سکے ۔ تاریخی جگہ بدھلہ سنت وادی سندھ کی تہذیب کا حامل شہر ہے ۔

تاریخ کی مختلف کتابوں کے مطابق 2600 قبل مسیح میں ملتان اور بدھلہ سنت ریاست سندھ کا حصہ تھے ۔ سندھ کے آخری ہندو بادشاہ راجہ داہر نے اپنے دور حکومت کے دوران 690 میں بدھلہ سنت میں تالاب تعمیر کرایا تھا۔ تالاب میں اترنے کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کی 21 سیڑھیاں تھیں ۔تالاب میں مردوں اور عورتوں کے نہانے کے لئے علیحدہ علیحدہ جگہیں مخصوص کی گئی تھیں۔ 31 فٹ گہرے تالاب میں وادئ سندھ کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ مذہبی رسومات کے مطابق ہندو اس تالاب میں اشنان کرتے تھے ۔ قیام پاکستان تک ہر سال 15 مارچ کو اس تالاب پر سالانہ مذہبی رسومات کا انعقاد کیا جاتا تھا۔

بدھلہ سنت کے علاقے میں 9 کنال سے زائد رقبہ پر بنایا جانے والا یہ تالاب اب سکڑ کر صرف 6 کنال کا رہ گیا ہے جبکہ 3 کنال سے زائد پر تجاوزات قائم ہیں ۔

ملتان کی شہری شکلا دیوی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملتان شہر تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس شہر میں ہندو مذہب کے تاریخی اثار موجود ہیں اسی طرح کا ایک اہم مقام ملتان کے علاقے بدھلہ سنت میں موجود ہے ۔ یہ تالاب ہندو تاریخ کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن محکمہ متروکہ وقف املاک انتظامیہ کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جوکہ افسوسناک ہے یہ تالاب آخری ہندو حکمران راجہ داہر نے تعمیر کروایا تھا ماضی میں اس مقام پر ہندو برادری مذہبی رسومات بھی ادا کرتی تھی ۔

محکمہ متروکہ وقف املاک کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر مظہر بخاری نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راجہ داہر کا تعمیر کردہ یہ تالاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس تاریخی تالاب کی جگہ 1992 میں ڈسٹرکٹ کونسل کے احکامات پر پارک تعمیر کرنے کا کام شروع کرایا گیا اور تالاب کو مٹی سے بھرا گیا تاہم محکمہ متروکہ وقف املاک نے اس صورتحال پر احتجاج کیا اور تاریخی ورثہ کو بچایا۔ تاہم اب کچھ افراد نے جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اس لیے متعلقہن کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اگر قابضین نے جگہ خالی نہ کی تو کاروائی کریں گے محکمہ متروکہ وقف املاک شہر میں موجود تاریخی ورثوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے.

LEAVE A REPLY