ذیشان علی

پاکستان کی پہلی دستورساز اسمبلی کا اجلاس پاکستان بننے سے تین دن پہلے یعنی11 اگست1947 کو منعقد ہوا جس کی قیادت قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ہندو جوگندرناتھ منڈل سے کروائی اور اس کا مطلب یہ تاثر دینا تھا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔

اس تاریخی اجلاس کے دوران جناح صاحب نے ایک شہرہ آفاق تقریر کی جس کے چند حصوں کو پریس میں نہیں جانے دیا گیا تھا یعنی عوام سے چھپا لیا گیا تھا۔

قائداعظم کی جو اہم باتیں مخفی رکھی گئیں ان میں سے ایک بات اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تھی’آپ آزاد ہیں، آپ کو مندر میں جانے کی آزادی ہے،آپ کو مسجد میں جانے کی آزادی ہے ،آپ کو ریاست پاکستان میں کہیں بھی جانے اور عبادت کرنے کی آزادی ہے۔‘ اس کے ساتھ ہی انہوں یہ بھی واضح کیا ریاستی اموراور مذہب دو الگ چیزیں ہیں’ آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب ، ذات یا فرقے سے ہو ، اس کا ریاست سے کوئی سروکار نہیں ہے۔‘

اگر اقلیتوں کے حوالے دیکھا جائے تو قائداعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔

اقلیتوں پر تشدد کے ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں اور نہ جانے کتنے ایسے واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہی نہیں ہوئے ہیں۔

توہین مذہب کی بنیاد پر عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر خودکش حملے ہوئے،ان کی گلیوں محلوں پر جتھا برداروں کے حملے ہوئے اور ان کے گھروں کو جلایا گیا اور بعض اوقات انہیں بھی زندہ جلا دیا گیا۔

ننکانہ صاحب کے قریب ایک گاوں میں ایک عیسائی عورت آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام لگا۔اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آسیہ بی بی کی حمایت میں چند الفاظ بولے تو انہیں قتل کر دیا گیا اور تو اور ان کے قاتل کو ہیرو کا درجہ دے دیا گیا ۔اس کے بعد پیپلز پارٹی کے اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کردیا گیا۔

 ہزارہ شیعہ کمیونٹی کو کوئٹہ کو اس طرح سے منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے آج وہ ایک احاطے تک محدود نظر آتے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں ملک کے دیگر حصوں یا بیرون ملک نقل مکانی کر چکی ہے۔

احمدیوں کو باقاعدہ طور پر کافر قرار دے کر انہیں لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں اس برادری کی مذہبی آزادی ختم ہو کر رہ گئی اور آج بہت سارے قادیانی خاندان خودساختہ جلا وطنی پر مجبور ہوئے۔

ہندوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا اور بہت سے ہجرت کر کے بھارت جانے پر مجبور ہوگئے۔یعنی مملکت خداداد کی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری ہے۔

 اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی تمام تر ذمہ داری یکساں طور پر سیاسی اور فوجی قیادت کے کندھوں پر آتی ہے۔یہ سب چلتا رہا اور ابھی تک چل رہا ہے اوراس پر قابو پانے میں ریاست پاکستان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ نام نہاد افغان جہاد سے پہلے پاکستان کے طول و عرض میں شیعہ، سنی،قادیانی، ہندو او رسکھ ایک کمیونٹی کی طرح رہتے تھے۔آپس میں بھائی چارہ تھا۔کسی کو کسی کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں تھا، کیونکہ ایک دوسرے کے ساتھ ذاتی تعلقات اتنے مضبوط تھے کہ مذہب درمیان میں حائل ہی نہیں تھا۔یہ قائداعظم کا پاکستان تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ قائد کے پاکستان کو نظر کیسے لگی؟

اس کی تمام ذمہ داری آسانی کے ساتھ اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ضیا الحق کے کندھوں پر ڈالی جا سکتی ہے۔ افغان جنگ کے لیے پاکستان اور دنیا بھر سے دہشت گردوں کو بھرتی کیااور افغانستان میں روس فوجوں پر چڑھائی کروا دی۔روس کو شکست ہوگئی ،امریکہ سپر پاور بن گیا لیکن اس جنگ کے خاتمے کے بعد ملک میں فرقہ واریت پر مبنی شدت پسند تنظیموں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہو چکا تھا اور فرقے کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ معمول بن گئی۔

ماہرین کے مطابق ملک کے اندر مذہب کی بنیاد پر شدت پسندی کو فروغ ایران سعودی عرب کی در پردہ جنگ کے نتیجے میں دیا گیا جس میں ایک محاذ پاکستان بھی بن گیا اور اقلیتوں پر ظلم و جبر کی کہانی بھی یہیں سے شروع ہوتی ہے لیکن اس سارے کھیل میں  یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ قائداعظم کا پاکستان انتہا پسندوں کا پاکستان بن گیا۔

کیا پاکستان کی موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت اقلیتوں پر کئی دہائیوں سے جاری تشدد کو رکوانے میں کوئی اہم کردار ادا کر سکے گی؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا لیکن یکم مارچ کو جب اسلام آباد میں اقصادی تعاون کونسل کے اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کی وجہ سے عام تعطیل تھی تو دارالحکومت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر سرکاری سکیورٹی میں ایک ایسے شخص کی پہلی برسی منائی جا رہی تھی جو ریاست کی نظر میں قاتل تھا اور اسے پھانسی دی گئی لیکن معلوم نہیں کن وجوہات کی بنا پر پھانسی کا ایک برس مکمل ہونے پر ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہونے دیا اور انھیں بھرپور تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔

LEAVE A REPLY