الیاس رئیس
پاک وائسز، پنجگور
 
آپ میں سے اکثر ایران کی کجھور کو بہت پسند کرتے ہیں لیکن بہت کم یہ جانتے ہیں کہ صوبہ بلوچستان کے پنجگور کی کجھور ذائقہ میں ایرانی کجھور سے کم نہیں ہے۔ خاص کر موزاتی قسم جس کی بیرون ملک بھی مانگ ہے۔
پنجگور کے علاوہ پاکستان میں اور کہی موزاتی کجھور نہیں لگائی جاتیں کیونکہ ان کے لیے خاص ٹمپریچر اور ہوا میں نمی کا تناسب درکار ہوتا۔
موزاتی کجھور کے بارے میں جب ہم نے مقامی زمیندار محمد جان سے بات کی تو انہوں نے پاک وائسز کو بتایا کہ “موزاتی کجھور پہلے صرف امرا کے باغات میں لگائی جاتی تھیں کیونکہ ہر کوئی اتنا مہنگا درخت نہیں لگا سکتا تھا۔” آج بھی پنجگور میں یہ مشہور ہے کہ یہ کجھور صرف امیروں کے لیے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ کجھور کی مانگ میں اضافہ ہوا تو ہر خاص و عام کے باغ میں موزاتی کجھور کے درخت لگنا شروع ہو گئے۔
اس بارے میں باغ کے ایک مالک صغیر احمد کا کہنا ہے کہ “اندرون ملک اور بیرون ملک پنجگور کے موزاتی کجھور کی بہت ڈیمانڈ ہے لیکن فروخت کے وقت پنجگور کا نام تک نہیں لیا جاتا بلکہ اسے ایران کے کجھورکے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔”
پنجگور میں کجھوروں کے ایک باغ میں کام کرنے والے کسان دل مراد نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پورا سال اس پر محنت کرتے ہیں لیکن اصل منافع بازار کے آڑتی کو ہوتا ہے۔ “آڑتی ہم سے 70 سے 90 روپے فی کلو کجھور لیتا ہے اور آگے کوئٹہ ، کراچی میں 3 سو سے 4 سو کلو تک فروخت کرتا ہے۔”
ضغیر احمد نے کہتے ہیں کہ “کئی ٹن موزاتی کجھور ہر سال کولڑاسٹوریج نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں کسانوں کے ساتھ تعاون کرے۔”
رائیٹر کے بارے میں: الیاس رئیس پاک وائسز کے لیے پنجگور سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY