قادر بخش سنجرانی، پنجگور

پنجگور میں کجھور کی پیدوار کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی کارخانہ نہ ہونے کے باعث سالانہ ہزاروں ٹن موزاتی کجھور ضائع ہوجاتے ہیں اور زمیندار فصل خراب ہونے کے ڈر سے اپنی سال بھر کی محنت کوڑیوں کے دام ببیچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔


پنجگور پاکستان میں کجھور کی پیدوار کے لحاظ سے ایک منفرد علاقہ ہے اور یہاں کجھور کی تقریبا ایک سو اقسام پیدا ہوتی ہیں اور خصوصا پنجگور کے موزاتی کا ذائقے میں کوئی ثانی نہیں ہے۔

 موزاتی پنجگور کے علاوہ ہمسایہ ملک ایران میں بھی خاصی تعداد میں پائی جاتی ہے اور ایران کے زمینداروں کو پاکستان کے مقابلے میں حکومتی سطح پر مکمل تعاون ملتا ہے اور کجھور کی فصل کو سیزن تک محفوظ بنانے کے لیے ڈیٹ پروسنگ کارخانے موجود ہیں جہاں زمیندار اپنی فصل کو رکھتے ہیں۔

  پنجگور کا موزاتی ہر حوالے سے ایرانی موزاتی سے زیادہ لذیز اور شیرہ دار ہے فرق صرف حکومتی سطح پر عدم تعاون ہے اس وجہ سے ملک کی ایک اہم پیدوار نہ محنت کرنے والے کے لیے منافع بخش ہے اور نہ حکومت کجھور کی پیدوار سے زرمبادلہ کمانے کے لیے فکر مند ہے۔

 پاک وائسز نے اس حوالے زمیندار ایکشن کمیٹی پنجگور کے صدر حاجی مولابخش سنجرانی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ پنجگور میں کجھور کی فصل کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی کارخانہ نہیں ہے زمیندار اپنی مدد آپ کے تحت روایتی طریقوں سے کجھور کی فصل کو محفوظ بناتے ہیں مگر سب سے زیادہ منافع دینے والی کجھور موزاتی کے لیے لوکل اور روایتی طریقے بے سود ہیں کیونکہ موزاتی کے لیے پانی کی زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے ۔

جب اسے درخت سے توڑا جاتا ہے تو تھوڑے عرصے بعد ہی یہ خراب ہونا شروع ہوجاتا جس سے کاشتکار اس کے ثمرات سے محروم رہتا ہے جو ان کی سال بھر کی جفا کشی کے بعد تیار ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پاسکو کی طرز پر کجھور کی خریداری کرکے اسے ملکی کارخانوں میں محفوظ رکھے تو صرف موزاتی سے کروڑوں روپے زرمبادلہ حاصل ہوتا اور کاشتکاروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ بھی ملتا۔

اس دوران ایک اور کاشتکار محمد طاہر نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجگور کا موزاتی دنیا بھر میں نمبر ون ہے یہ ایک لذیذ پھل ہے خاص کر رمضان المبارک میں اس کی مانگ میں بے حد اضافہ ہوتا ہے مقامی سطح کے علاوہ ملک اور بیرون ملک موزاتی کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اگر موزاتی کو حکومت محفوظ بناکر ملکی اور غیر ملکی مارکیٹ تک پہنچاتی تو آج کسان خوشحال رہتا اور ملکی خزانے میں بھی ایک اچھی خاصی آمدنی آکر جمع ہوتی۔

LEAVE A REPLY