رفیق چاکر

پاک وائسز، پنجگور

 بلوچستان کے ضلع پنجگور کا شاہو قلندر مزار کھنڈرات میں تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے لیکن آج بھی مقبرہ کی زیارت کرنے والے کہتے ہیں کہ انہیں یہاں جو سکون ملتا ہے وہ کہی اور نہیں۔

     روایت کے مطابق صدیوں سے موجود مقبرہ کو شاہو قلندر کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن تاریخ میں اس کے بارے میں زیادہ مستند معلومات نہیں ملتیں۔ بعض مقامی اس گنبد کو کسی صحابی کا مزار قرار دیتے ہیں اور بعض اسے قدیم زمانے کے معروف صوفی بزرگ شاہو کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔

پنجگور کے وسط چتکان کے علاقے غریب آباد میں رخشان ندی کے کنارے اس گنبد کا طرز تعمیر اور اس میں استعمال ہونے والا پتھر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
لیکن گزشتہ کئی سالوں سے یہ مقبرہ عدم توجہی کا شکار ہے او اس کی تعمیرمیں استعمال ہونے والی اینٹیں اور پتھر آہستہ
آہستہ دیوار سےگرنا شروع ہو گئیں ہیں۔
اس مقبرہ نما گنبد کے بارے میں علاقے کے ایک 95سالہ  بزرگ محمد شریف نے پاک وائسز کو “بتایا کہ “سو سال سے میں چشم دید گواہ ہوں کہ یہ مقبرہ اسی حالت میں موجود ہے۔
 بزرگ کے بقول “ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ گنبد کے اندر ایک درویش فقیر کی قبر ہے جو  کسی دور دراز علاقے سے نقل مکانی کر کے پنجگور میں آباد ہو گئے اور انہوں نے اپنی تمام زندگی اسی مقام پر بیٹھ کر عبادت میں گزار دی۔”
مقامی لوگ فقیر کو شاہو کے نام سے پکارتے تھے اور ان کی وفات کے بعد ان کا مزار شاہو قلندر کے نام سے جانا جانے لگا۔
     ایک اور مقامی بزرگ واجا شیر محمد نے پاک وائسز کو بتایا کہ “مقبرہ پر مختلف اوقات میں فقیر “کے مرشد یہاں بیٹھے
رہتے تھے اور اس طرح مزار محفوظ رہا لیکن اب ان کے چیلے بھی نہیں رہے۔
تاریخ کے  پروفیسر خدا رحم بلوچ نے پاک وائسز کوبتایا کہ “تیس سالوں سے اس مقبرہ کی حالت روز بروز ابتر ہوکر کھنڈرات
میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔”
 انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ ثقافت کے زمہ داران اس تاریخی مقبرہ کا دورہ کرکے چلے گئے ہیں لیکن اس کی صورت حال کو بہتر کرنے یا اس کو کھنڈرات میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔
پروفیسر بلوچ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ “اگر اس ثقافتی ورثے کو بچانے کے لیے فوری اقدامات نہیں لیے گئے تو عنقریب اس مقبرے کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔”
گنبد کے قریب آباد گھرانوں کے رہائشیوں نے پاک وائسز کو بتایا کہ جرائم پیشہ افراد گنبد کی اینٹیں ایک ایک کر کے اکھاڑ رہے
ہیں اور خدشہ ہے کہ پنجگور اس تاریخی گنبد سے محروم ہوجائے گا۔
رائیٹر کے بارے میں: رفیق چاکر پنجگور سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY