رفیق چاکر, پنجگور

بلوچستان کے شہر پنجگورمیں بھی مبینہ انتحابی دھاندلی کے خلاف ریلی اور احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔۔

      پنجگور میں مختلف سیاسی  جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔سیاسی  جماعتوں کے  ہارنے والے امیدوار  نتائج کو مسترد کرکے الیکشن کمیشن کو دوبارہ ووٹوں کی گنتی  کے لیے   درخواست دے چکے ہیں۔

پنجگور حلقہ این اے270اور حلقہ پی بی 43 پنجگور کے امیدوار سب سے زیادہ احتجاج میں پیش پیش تھے۔ این اے حلقہ 270کے امیدوار اور بی این پی کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری میر نذیر احمد بلوچ کے حامیوں نے  چتکان بازار سے ڈی سی آفس تک ریلی  نکالی۔

مظاہرین  نے نتائج کی مبینہ تبدیلی کے خلاف اور متاثرہ امیدوار  کے حق میں نعرہ لگائے  اور  ڈسٹرکٹ رٹرنگ آفیسر  سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی۔

اس موقع پر بی این پی سےاین اے 270کے امیدوار میر نزیر احمد نے کہا کہ ” تینوں اضلاع پنجگور واشک  اور آواران سے  آنے والے نتیجے میں برتری  کے باوجود 72  گھنٹوں کی طویل انتظار کے بعد میرے حق میں نتائج کو اس طرح تبدیل کردیا گیا جس کا  میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ 

ایک ایسے شخص کو کامیاب کرکے نتائج کا اعلان کیا گیا جنہوں نے الیکشن مہم کے دوران ایک علاقے میں جاکر مہم چلانے کی جرات نہیں کی۔۔

این اے 270سے بی این پی عوامی کے امیدوار کیپٹن (ر)محمد حنیف اور ایم ایم اے کے امیدوار حاجی عطااللہ بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کی جیت کو ہار میں بدل کر ایک ایسے امیدوار کو کامیاب کیا گیا جنہوں نے اپنے علاقے سے دو ہزار سے زائد ووٹ نہیں لئے ہیں۔۔

ریلی میں شریک  نبیلہ اور عالیہ نے پاک وائسز کو بتایا کہ اگر  ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ نہ مانا گیا تو  وہ احتجاج کا دائرہ  کار بڑھا دیں گے۔۔

LEAVE A REPLY