قادر بخش سنجرانی

پنجگور

پنجگور پاک وائسز کی رپورٹ کے بعد محکمہ بی اینڈ آر نے رخشان پل کی مرمت اور بحالی کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

رخشان پل نہ صرف پنجگور کی مختلف آبادیوں کو شہر سے آپس میں ملانے کا زریعہ ہے بلکہ ہمسایہ برادر ملک ایران بارڈر تک جو سڑک جاتی ہے اسے بھی شہر سے ملاتا ہے۔

پنجگور کے شہری عبدالحمید نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رخشان پل پنجگور شہر کی پہچان ہے لیکن علاقے کے منتخب نمائندوں نے پل کی خستہ حالی پر کوئی توجہ نہیں دی جس سے یہ مزید خستہ حالی کا شکار ہوگیا اور لوگ  خوف کی وجہ سے پل پر سے گزرنے سے کتراتے تھے۔

اب وزیر اعلی بلوچستان نے اس کا نوٹس لیکر مرمت اور بحالی کے لیے فوری فنڈز فراہم کیے جس سے کام شروع کردیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ “یہ تمام کام وقتی ہے اور اس کا مستقل حل نکالا جانا جائے، متبادل کے طور پر مزید ایک پل کی تعمیر سے ہی یہ مسئلہ حل ہو سکے گا۔”

جب اس حوالے سے پاک وائسز نے ایک اور شہری شعیب احمد سے بات کی تو انہوں نے کہ رخشان برج پر وزنی گاڑیوں کی نقل وحرکت پر فوری پابندی عائد کرنے کی جائے  کیونکہ 25 سال  بیت جانے کے بعد پل اب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ 80 سے 120 ٹن کا بوجھ برداشت کرسکے۔”

پاک وائسز نے ایکسئین بی اینڈ آر عبدالمالک بلوچ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ” پل کی مرمت اور بحالی کا کام وزیراعلی کے خصوصی فنڈز سے ہورہا ہے کیونکہ محکمہ کے پاس کوئی فنڈز نہیں ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “رخشان پل کو نقصان پہنچنے کی سب سے بڑی وجہ بھاری گاڑیاں ہیں جو گنجائش اور اجازت  سے زیادہ وزن لادتے ہیں۔” انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ محکمہ پل کی مرمت کے کام میں میعار کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

LEAVE A REPLY