بالاچ قادر اور بادل بلوچ 

گوادر سٹی  میں  لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کے مناظر

گواد میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ  کا دورانیہ 16گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے جس کے باعث شہری سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ادھر گوادر کی تحصیل پسنی کے شہریوں نے بھی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی روڈ کو بند کر دیا۔

گوادر میں بجلی بحران کی مستقل حل کے حوالے سے  واپڈا کے حسن مگسی نے کہا ہے کہ ”جب تک وفاقی حکومت گوادر کو براہ راست ایران سے بجلی فراہمی کا منصوبہ شروع نہیں کرے گی اس وقت تک بجلی کا بحران اسی طرح موجود رہے گا۔”


 کم وولٹیج کی وجہ سے لوگوں کے قیمتی سامان جلنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔۔پاک وائسز سے بات چیت کے دوران ایک دکاندار حمل بلوچ نے بتایا، ”اس سیزن میں سب سے زیادہ فریج اور اے سی آتے ہیں لیکن وولٹیج کی وجہ سے بہت سے کسٹمرز کے فریج اور اے سی کے سرکٹ جل رہے ہیں۔”

پسنی کی مرکزی شاہرہ  کو شہریوں نے بند کر دیا
گوادر میں لوڈشیڈنگ کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جب کسی علاقے کا ٹرانسفارمر خراب ہوجاتا ہے تو واپڈا کی جانب سے اسے ہفتوں تک ٹھیک نہیں کیا جاتا ،لوگ مجبوراً چندہ جمع کرکے ٹرانسفارمر کو ٹھیک کراتے ہیں۔گوادر کی تحصیل پسنی کی گل خاتون نے بتایا کہ “ٹرانسفارمر کو خراب ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے لیکن واپڈا کی جانب سے نیا ٹرانسفارمر فراہم نہیں کیا گیا۔”
ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے پاک وائسز کو بتایا کہ “جب ہم کسی مسئلے پر ایکسئین واپڈا یا کسی ذمہ دار کو فون کرتے ہیں تو ہمیں جواب نہیں دیا جاتا۔”
گوادر پریس کلب
گوادر کے ایک اور شہری جلیل بلوچ نے پاک وائسز کا بتایا ، “مکران میں گوادر کے لوگ سب سے زیادہ بل ادا کرتے ہیں اس کے باوجود شہر میں بجلی ناپید ہے۔”
اس حوالے سے جب ہم نے واپڈا کے ایکسئین حسن مگسی سے سوال کا تو انہوں نے اس بات کا تصدیق کر دی کہ بجلی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،  “لیکن واپڈا کے پاس سہولیات سمیت اسٹاف کی بہت کمی ہے جسکی وجہ سے ہم بروقت اس مسئلے پر قابو نہیں پاسکے۔”
حسن مگسی کے مطابق، “مکران کو ایران سے بجلی کی سپلائی کی جارہی ہے اور گوادر آخری گرڈ ہے اسی لیے مرکزی سپلائی لائن ،پنجگور،تربت اور پسنی سے ہوتی ہوئی جب گوادر گرڈ تک پہنچتی ہے تو اس میں کمی آجاتی ہے۔۔”
حکومت کے مطابق مکران کو مجموعی طور پر 150میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے جب کہ اس کے بجائے 95میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے جو انتہائی کم ہے ۔
دوسری جانب ڈویژنل چئیرمین طارق بلوچ نے پاک وائسز کو انٹریو دیتے ہوئے بتایا کہ “بجلی کی تاریں بہت پرانی اور بوسیدہ ہیں ،نمی اور زیادہ لوڈنگ کی وجہ سے بجلی ٹرپ کرجاتی ہے جس سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔۔

LEAVE A REPLY