تحریر صہیب اقبال

لیہ ، مظفر گڑھ ، راجن پور ، ڈیرہ غازی خان اور ملتان سمیت جنوبی پنجاب ایک زرعی خطہ ہے ۔ زیادہ تر ابادی کا ذریعہ معاش فصلوں ، باغات اور سبزیوں کی کاشت سے وابستہ ہے ۔ حکومت کی عدم توجہی کے باعث اس شعبہ سے جڑے کاشتکار پریشان ہیں۔ جنوبی پنجاب میں سبزیوں کی خصوصی کاشت کی جاتی ہے اس میں اہم سبزی آلو ہے۔ آلو کی فی ایکڑ آمدنی دوسرے فصلوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ رواں سال آلو برآمد نہ ہونے کے باعث مناسب ریٹ نہ لگ سکا جس کے باعث کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مظفرگڑھ کے رہائشی شاہد حسین نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کھیتوں میں مختلف سبزیوں کی کاشت کرتا ہے تاہم رواں سیزن آلو کی کاشت کی ۔ فصل بھی مناسب ہوئی لیکن حکومت نے آلو خریدے اور نہ ہی بیرون ملک بھیجا جس کی وجہ سے آلو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت ہے رواں سال آلو فی کلو دس سے پندرہ روپے میں فروخت ہوا جس کے باعث ان کے سبزیوں کے اخراجات پورے نہیں ہوئے۔

لیہ کے رہائشی متین رضا نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیہ کی زمین سبزیوں کی کاشت کے حوالے سے اہم ہے تاہم اس سال بڑی تعداد میں آلو کی کاشت کی گئی لیکن حکومت کی سطح پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا جس کے باعث آلو بیرون ملک کی منڈیوں تک نہیں پہنچ سکا اور ملک میں قیمت نہ ملنے سے کسان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس حوالے سے حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے اہم اقدامات کرے زرعی اجناس پر اخراجات میں سبسڈی دے اور اور ان کی قیمتوں کو بہتر کرنے کے حوالے سے اقدامات کرے تاکہ کسان خوشحال ہو سکے۔

زرعی ماہر علی رضا نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آلو کی فصل سالانہ چار لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے اور تقریباً 250 من فی ایکڑ اوسط حاصل کی جاتی ہے ۔ آلو ایک مکمل غذا ہے کیونکہ اس میں کافی مقدار میں ، وٹامن ، معدنی نمکیات اور دیگر اہم اجزا پائے جاتے ہیں جنوبی پنجاب کے میدانی علاقوں میں اس کی دو فصلیں موسم بہار اور خزاں میں کاشت کی جاتی ہے ۔ فی ایکڑ اچھی پیداوار کے لئے کسان کاشت کرتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ پر خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے زرعی رقبہ سکڑ رہا ہے کسانوں کو مناسب منافع نہ ملنے کے باعث ان کی مالی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

محکمہ زراعت ملتان کے اسٹنٹ ڈائریکٹر تعلقات عامہ نوید عصمت کاہلوں نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سیزن جنوبی پنجاب میں آلو کاشت کیا گیا ریٹ مناسب نہ مل سکنے کے باعث کاشتکاروں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس حوالے سے رپورٹ اعلی حکام کو بھیجوادی ہے تاہم جلد حکومتی سطح پر آلو سمیت دیگر سبزیوں کی کاشت کے کسانوں کے لیے بہتر اقدامات شروع کریں گے تاکہ کسان خوشحال ہو سکے۔

صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے اگر زرعی شعبہ پر خصوصی توجہ دی جائے تو پاکستان اپنی برآمدات بہتر کرکے اچھا خاصا زرمبادلہ کماسکتا ہے جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

LEAVE A REPLY