ساجد بجیر

پاک وائسز، تھرپارکر

مقامی لوگ علاقے میں تعفن پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر موروں کو دفناتے جا رہے ہیں۔
 مقامی ذرائع کے مطابق تھرپارکر میں موروں میں رانی کھیت وبا نے مزید سات مور مار دئیے جبکہ درجنوں کے بیمار ہونے کی اطلاعات ہیں۔میڈیا پر رپورٹس آنے کے بعد  محکمہ جنگلی حیات کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔پولٹر ی ڈپارٹمینٹ بھی سرگرم ہو گیا ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ذرائع کے مطابق وسائل محدود ہونے اور علاقہ وسیع ہونے کی وجہ سے بیماری کنٹرول کرنا مشکل ہے۔
:سات مزید مور ہلاک
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے مطابق چھاچھرو تحصیل کے گاؤں مبارک رند میں مزید سات مور مر گئے اور دس روز میں مرنے والے موروں کی تعداد 79 ہوگئی ہے جبکہ مٹھی،ڈیپلو،چھاچھرو اور ننگرپارکر کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں مور جنگل میں بیمار بتائے جاتے ہیں۔
:وزیر اعلیٰ سندھ کا حسب روایت نوٹس
موروں کے مرنے کے رپورٹس کے بعد وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاھ نے نوٹس لیا ہے اور محکمہ وائلڈلائیف سندھ سے رپورٹ طلب کی۔محکمہ وائلڈ لائیف نے ایک ہفتے میں 27 موروں کے مرنے کے تصدیق کردی اور رپورٹ وزیر اعلی سندھ کے پاس جمع کرادی ہے۔
:مرغی کی دوا موروں پر بے اثر
 
رانی کھیت بیماری میں مرغی کو دی جانے والی یہ ادویات متاثرہ موروں کو دی جا رہی ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات نے محکمہ پولٹری کے تعاون سے موروں کے علاج کے لیے مزغیوں کو رانی کھیت کے دوران دی جانی والی ادویات دینا شروع کردیں گے جبکہ محکمہ وائلڈلائیف کے زرائع کا کہنا ہے کہ جس بھی مور میں رانی کھیت بیماری ہو گئی ہے اس کو بچانا بہت مشکل ہے ،اس لیے ادویات صحت مند موروں کو بھی مقامی لوگوں کے تعاون سے پانی اور خوراک میں ملا کر دے رہے ہیں جو بیماری کو کنٹرول کرنے  کے لیے بہتر حل ہے۔
مٹھی کے گاؤں کھارو جونیجہ کے رہائشی راجا رسول بخش نے پاک وائسز کو بتایا: “ہم نے مرے ہوئے تین موروں کو دفنا دیا کیونکہ مرے ہوئے مور باہر پھینکنے سے علاقے میں بدبو پھیل جاتی ہے۔” ڈاکٹروں کے مطابق  اس گندگی سے وائرس دیگر موروں اور مرغیوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔
:محکمہ وائلڈ لائیف کے محدود وسائل
تھرپارکر کے صحرا میں رانی کھیت بیماری کے باعث موروں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
 محکمہ جنگلی حیات کے ذرائع نے پاک وائسز کو بتایا کہ تھرپارکر میں ہزاروں موروں کے تحفظ اور علاج کے لیے محکمہ کے پاس وسائل محدود ہیں۔ بائس ہزار اسکوائر کلومیٹر کے علاقے کے لیے صرف ایک چھوٹی جیپ ہے جس میں صرف چار کا اسٹاف ہی سفر کرسکتا ہے۔ زرائع نے مزید بتایا کہ اس ایک گاڑی کے لیے بھی فیول کا بجٹ محدود ہےجبکہ تھرپارکر کے ساتوں تحصیلوں میں صرف ایک ہی ملازم موجود ہے جس کے پاس بھی سفری سہولت موجود نہیں ہے۔
:لاکھوں مور ایک ڈاکٹر
دوسری طرف پورے تھرپارکر کے لیے پولٹری کا ایک ہی ڈاکٹر موجود ہے جو پوری تھر کے بیمار موروں کی دیکھ بحال کے لیے ناکافی  ہے۔جبکہ تاحال حکومت سندھ نے کسی بھی محکمے کو موروں کو بچانے کا ذمہ دار قرار نھیں دیا ۔
مقامی سطح پر دونوں محکموں میں موروں کو بیماری سے بچانے اور علاج کے حوالے سے موقف میں تضاد واضع طور پر موجود ہے اور دونوں محکموں کے افسران موروں کو بچانے پر توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام بازی میں مصروف ہیں۔
:رانی کھیت بیماری کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم
تھر کا یہ بچہ رانی کھیت وبا سے ہلاک ہونے والے ایک مور کے ساتھ۔
تھرپارکر کے لوگ موروں کو بچوں کے طرح پیار کرتے ہیں اور اپنے طورپر بھی کوشش کر رہے ہیں کہ موروں کا علاج کیا جائے اور ان کو پانی اور خوراک بھی دیتے ہیں۔تھرپارکر میں محکمہ وائلڈلائیف نے عوام کو موروں کی بیماری کے حوالے سے اطلاع کرنے اور رانی کھیت متعلق شہر کے مختلف  چوراھوں اورعوامی مقامات پر آگاھی کے لیے بینر بھی آویزان کر دیئے ہیں۔جبکہ تاحال بیماری پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔
رائیٹر کے بارے میں:ساجد بجیر تھرپارکر سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔
تصاویر: ساجد بجیر
ایڈیٹنگ :حسن ناصر 

LEAVE A REPLY