ساجد بجیر

پاک وائسز، مٹھی

تھر کے مور رانی کھیت کی بیماری کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ تصویر:ساجد بجیر

تھرپارکر میں ایک بار پھر موروں میں رانی کھیت کی بیماری پھیلنے کے باعث مزید 11 مور مر گئے ہیں جبکہ سیکڑوں کے بیمار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس بات کی تصدیق محکمہ وائلڈ لائیف تھرپارکر کے آفیسر اشفاق میمن نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کی۔

مقامی لوگوں کے مطابق وائلڈ لائیف کے عملے نے موقع پر جانے کی اور نہ ہی علاج کا بندوبست کرنے کی زحمت کی ہے۔تھرپارکر کا خوبصورت حسین پرندہ مور ایک بار پھر بیماری کے نظر ہو رہا ہے۔

  :موروں کے مرنے پر مقامی لوگ حرکت میں

تھر کے مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت موروں کو بچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔تصویر: ساجد بجیر

 موروں میں بیماری پھیلنے سے ننگرپارکر کے گاؤں ھیرار دیدا اور مٹھی کے گاؤں بکھو جونیجہ میں گیارہ مور  مر گئے ہیں،جبکہ اطلاعات کے مطابق دونوں دیہاتوں میں سیکڑوں مور بیمار ہیں۔

مقامی لوگوں نے پاک وائسز کو بتایا کہ انہوں نے مٹھی کے گاؤں بکھو میں چھ مور مرے ہوئے جبکہ تین مور بیمار پڑ ے دیکھے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ ان موروں کی اپنی مدد آپ کے تحت علاج معالجہ اور ان کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یونین کونسل جوڑؤ کے چیئرمیں عبد المجید جونیجو نے پاک وائسز کو بتایاکہ ان کے گاؤں کے آس پاس ایک ھزار تک مور موجود تھے جس میں سے ایک ماہ کے اندر دو سو سے زائد مور مر گئے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ موروں میں ایک سال قبل ہونے والی بیماری پھر لوٹ آئی ہے،موروں کے منہ سے پانی آتا ہے،آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور گول چکر لگانا شروع کردیتے ہیں جس کے بعد جلد ہی مر جاتے ہیں۔

“نیم حکیم خطرہ جان”

مقامی لوگ محکمہ وائلڈ لائیف کی طرف سے دی گئی وئکسین موروں کو خود پلاتے ہیں۔تصویر:ساجد بجیر

مقامی رہائشی خوشی محمد نے پاک وائسز کو بتایا: “ہم بیمار موروں کو گھر لا کر ایک پاؤڈر پانی میں ملا کر پلا رہے ہیں جو ہم وائلڈ لائیف والوں سے لے کر آئے ہیں، مگر وہ بیمار مور بچ نھیں پارہے ہیں”۔

انھوں نے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائیف کے عملے کو مٹھی کے دفتر میں جاکر موروں میں بیماری کی شکایت بھی کی ہے مگر کوئی ٹیم علاج کے لیئے تاحال گاؤں تک نہیں پہنچی ہے،ھم اپنے طرف سے کوشش کر رہے ہیں۔

 اطلاعات کے مطابق تھرپارکر کے دیگر علاقوں میں بھی رانی کھیت بیماری موروں میں پھیل رہی ہے اور ھلکی گرمی شروع ہونے سے ہی مور بیمار ہوکر مر رہے ہیں۔

تین سالوں میں دو ہزار سے زائد مور ہلاک

تھر میں حالیہ دنوں میں مرنے والے موروں کا ایک منظر۔تصویر :ساجد بجیر

 محکمہ وائلڈ لائیف کے مطابق تھرپارکر میں گذشتہ تین سال سے بیماری اور بھوک کے باعث دو ھزار سے زائد مور مر گئے ہیں،تھر میں قحط کے بعد رانی کھیت بیماری تیزی سے پھیل جاتی ہیں،سندھ حکومت نے گذشتہ سال بھی موروں میں وئکسین کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن بیماری پر کنٹرول نھیں پایا جاسکا ۔

محکمہ وائلڈلائیف کیا کر رہا؟

ادھر پاک وائسز کی جانب سے رابطے پر محکمہ وائلڈ لائیف تھرپارکر کے گیم آفیسر اشفاق میمن نے تصدیق کی کہ موروں میں بیماری پھیل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا:  “جہاں سے بھی بیماری کی اطلاع ملتی ہے وہاں وئکسین فراھم کر رہے ہیں جو بیمار اور تندرست موروں کو مقامی لوگوں کی مدد سے کھانے اور پانی میں ملاکر دی جاتی ہے”۔

انھوں نے مزید بتایا کہ گاؤں بکھوکے رھائشیوں کو بھی وئکسین فراھم کی تھی لیکن اس کے باوجود مور مرنے کی اطلاع ملنے پر جلد ہی وہاں ٹیم جاکر بیمار موروں کا علاج کریں گی۔

رائیٹر کا تعارف:ساجد بجیر  تھرپارکر سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کررہے ہیں۔
ایڈیٹنگ:حسن خان

1 COMMENT

LEAVE A REPLY