ساجد بجیر 

پاک وائسز، مٹھی

                   اطلاعات کے مطابق مختلف دیہاتوں میں سینکڑوں مور رانی کھیت کی بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ فوٹو: ساجد بجیر

تھرپارکر میں موروں میں رانی کھیت کی بیماری کے باعث مزید تیرہ مور مر گئے۔ اس طرح کم و بیش ایک ہفتے میں ھلاکتوں کی تعداد 69 ہوگئی ۔مقامی افراد کے مطابق علاج کے لیئے کوئی ٹیم علاقوں میں نھیں پہنچی جبکہ موروں کو بچانے کے لیئے محکمہ وائلڈلائیف اور پولٹری نے ایک دوسرے پر علاج کی ذمی داری ڈال دی۔

:محکمہ وائلڈ لائیف اور پولٹری  کی ایک دوسرے پر الزام بازی

تھرپارکر کا قدرتی حسن پرندہ مور ایک بار پھر  رانی کھیت بیماری کے باعث مرنا شروع ہو گیا ہے۔محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق  ڈیپلو کے گاؤں سینی ،ننائی ،گالھاؤ میں مزید تیرہ مور مر گئے ہیں جبکہ تھر کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں مور بیمار بتائے جاتے ہیں۔ایک طرف تھر کے مور مرتے جارہے ہیں تو دوسری جانب محکمہ وائلڈ لائیف اور محکمہ پولٹری ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔

:موروں کو بچانے کے لیے نہ کوئی ڈاکٹر اور نہ ہی ادویات

مرغیوں کو دی جانے والی یہ ادویات بیمار موروں کے علاج کے لیے بھی استعمال کی جا رہی ہیں، فوٹو:ساجد بجیر

مٹھی کے گاؤں بکھو کے رہائشی میر محمد جونیجو نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ دو بار محکمہ وائلڈ لائیف کی ٹیم گاؤں آئی ہے اور معلومات لے کر چا ر بیمار مور ساتھ لے گئ۔

انہوں نے مزید کہا: “موروں کے علاج کے لیئے کوئی ڈاکٹر نہیں لایا گیا اور نہ ہی کوئی ادویات دی جارہی ہیں کہ ھم اپنے گاؤں کے موروں کو بچائیں”۔

:وائلڈ لائیف کا فوٹو اوپ

وائلڈ لائیف کے حکام نے ایک گاؤں کا دورہ بھی کیا لیکن ان کے ساتھ کوئی ڈاکٹر نہ تھا۔ فوٹو: ساجد بجیر

ادھر محکمہ وائلڈ لائیف تھرپارکر کے آفیسر اشفاق میمن نے میڈیا میں خبریں آنے کے بعد میڈیا کی ٹیم کے ساتھ مٹھی کے گاؤں بکھو پہنچ کر چار بیمار اپنے ساتھ لے گئے جنہیں مٹھی کے دفتر میں رکھ دیا گیا ہے۔

مقامی لوگ حیران ہیں کہ محکمہ وائلڈلائیف کے پاس موروں کے علاج کے لیئے کوئی ڈاکٹر موجود ہی نھیں ہے۔محکمہ وائلڈلائیف نے تمام ذمہ داری پولٹر ی ڈپارٹمینٹ کے سر پر ڈال دی ہے۔اسی حوالے سے محکمہ وائلڈ لائیف کے آفیسر اشفاق میمن نے بتایاکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ھم موروں کا قانونی تحفظ کریں اور بیمار موروں کو پولٹری ڈپارٹمینٹ کے ڈاکٹر تک پہچائیں۔

باقی علاج کی تمام ذمہ داری محکمہ پولٹری کی ہے: “ھمارے ڈپٹی کنزرویٹر نے پروجیکٹ ڈائریکٹر پولٹری حیدرآباد کو ہنگامی اجلاس میں طلب کر لیا ہے اور بیمار موروں کے علاج کے لیئے منصوبندی کی جائیں گی”۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا: “ھم نے علاقوں میں پہنچ کر تفصیلات جمع کرکے اپنے افسراں کو بھی آگاہ کردیا ہے”۔

:محکمہ پولڑی کا ردعمل

دوسری جانب پولٹری ڈپارٹمینٹ تھرپارکر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر نندلال نے بتایا کہ موروں کو بچانے سمیت تمام ذمہ داری محکمہ وائلڈلائیف کی ہے۔ “ھم ادویات اور ڈاکٹر کے حوالے سے جو مدد درکار ہو ھم فراھم کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: “باقی ھم پر کوئی ذمہ داری نھیں ہے اور ایسا لیٹر بھی ھم نے ضلع انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو ایک سال قبل ہی بھیجا ہوا ہے۔”انہوں نے مزید واضح کیا: “اس وقت ھمارے پاس ایک ہی ڈاکٹر ہے جو اجلاس کے لیئے حیدرآباد گیا ہوا ہے جیسے ہی وہ تھر واپس آئیں گے تو موروں کے علاج کے لیئے محکمہ وائلڈلائیف کی ھر مدد کو تیار ہیں۔”

وائلڈ لائیف نے کہا ہے کہ ان کے پاس وٹامن اور اینٹی بایوٹیک ادویات موجود ہیں جو موروں کو دی جاتی ہیں۔

زرائع کے مطابق  گذشتہ پانچ سال سے محکمہ وائلڈلائیف اور پولٹری ڈپارٹیمینٹ میں تھر کے موروں کے علاج کے حوالے سے تصادم چل رہا ہے۔ ادھر سندھ حکومت نے موروں کے نسل کشی کے باوجود بھی موروں کا بہتر علاج کا تاحال بندوبست نھیں کیا اور مور مرنے کا سلسلہ تاحال نھیں رک سکا ہے۔

رائیٹر کے بارے میں: ساجد بجیر تھرپارکر سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔

ایڈیٹنگ:حسن خان

LEAVE A REPLY