حانی رمضان
پاک وائسز، پسنی
یہ زیر تعمیر عمارت علاقے کے ایک شخص نے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کے لیے عارضی طور پر فراہم کی ہے۔
ریت کے ٹیلے پر موجود یہ عمارت دور سے دیکھنے پر بھوت بنگلہ کا منظر پیش کرتی ہے۔لیکن قریب سے اس چھوٹی سی ایک کمرے کی عمارت میں ننھی پریاں پہلا سبق پڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ جی ہاں یہ عمارت آج کل پسنی کے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول، ببر شور کے زیر استعمال ہے کیونکہ سرکار کے پاس اپنی عمارت نہیں۔
کہنے کو تو یہ ایک سرکاری سکول ہے مگر محکمہ تعلیم کی جانب سے اب تک نہ کوئی بلڈنگ فراہم کی گئی ہے اور نہ ہی فرنیچر سمیت دیگر ضروری اشیا۔
 2015 میں جب اسکول بنانے کا اعلان کیا گیا تو علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کی تحت ایک کمرے کے مکان کا انتظام کر لیا جہاں درس و تدریس کا آغاز کر دیا گیا۔ تاہم مالک مکان نے کچھ ہی عرصے میں اسکول کی چھٹی کر دی۔
قیام سےاب تک اسکول کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں جس کی وجہ سے طالبات کو کبھی ایک تو کبھی دوسری عمارت میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔ اسکول کے زیر استعمال موجودہ عمارت بھی علاقے کے ایک رہائشی نے عارضی طور پر اسکول کو فراہم کی ہے۔
اسکول ٹیچر ساجدہ حنیف نے پاک وائسز کو بتایا کہ اس وقت 26 لڑکیاں اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور ان کی انرولمنٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اسکول میں زیر تعلیم لڑکیاں اسکول کے قیام سے اب تک کم از کم تین عمارتیں تبدیل کر چکی ہیں۔
علاقے کے ایک شخص نے(انہوں نے اپنا نام رپورٹ میں دینے کی اجازت نہیں دی) گرلز اسکول کی عمارت کے لیے زمین بھی محکمہ تعلیم کو مفت فراہم کر دی ہے مگر اب تک عمارت بننے کے آثار کہی نظر نہیں آتے۔
پاک وائسز نے جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر، منیر نودیزی سے رابطہ کیا تو انہوں نے اسکول کی حالت سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا: “میں نے تین ماہ پہلے ہی چارج سنبھلا ہے اور اس اسکول (گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول ببر شور، پسنی ) کی اپ ڈیٹ میرے پاس نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد وہ اس اسکول کا دورہ کریں گے اور “صوبائی حکومت کو خط لکھ کر اسکول کی عمارت کے لیے فنڈز کی درخواست کریں گے۔ “
علاقے کے رہائشی سلیم بلوچ نےکہا کہ”دو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود سکول کی بلڈنگ کا منظور نہ ہونا
محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔”
علاقہ مکینوں کے مطابق گرلز اسکول قریب نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کو دور دراز اسکول جانے میں مشکل ہوتی ہے۔
سماجی کارکن ظہیر امیت نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “لڑکیاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر ایک کمرے کے اسکول میں کتنی لڑکیاں پڑھ سکتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: “اگر سکول کے لئے بلڈنگ کی منظوری میں مزید تاخیر کی گئی تو علاقے کی لڑکیوں کی تعلیم میں حرج آنے کا خدشہ ہے۔” موجودہ بلڈنگ کا مالک مکان کسی بھی وقت بلڈنگ خالی کرا کر اسکول والوں کو پھر سے چلتا کر سکتا ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: ہانی رمضان پاک وائسز کے لیے پسنی سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہی ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY