آرتی دیو
پاک وائسز، پسنی گوادر
گوادر کی تحصیل پسنی میں مریضوں کو معمولی علاج و معالجے اور ٹیسٹ کے لیے تربت یا کراچی ریفر کر دیا جاتا ہے۔
کہنے کو تو یہ پسنی کا رورل ہیلتھ سینٹر ہے جہاں دور دراز دیہات سے بھی مریض علاج معالجے کے لیے آتے ہیں لیکن اسپتال میں بنیادی طبی سہولیات کا فقدان ہے۔
ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کی 2لاکھ سے زائد آبادی کے لیے اسپتال میں صرف 5 ڈاکٹر ہیں جن میں سے 2لیڈی ڈاکٹر ہیں۔ اکثر خواتین کو علاج کے لیے کئی دنوں نہیں بلکہ مہنوں بعد ڈاکٹر کا ٹائم ملتا ہے۔
 سرکار کی طرف سے فراہم کی جانے والی ادویات بھی اسپتال میں مریضوں کو کبھی نہیں ملتیں۔ ناز خاتون جن کے 40 روزہ بچہ ڈائرایا کی بیماری سے متاثر ہوا ہے لیکن انہیں اسپتال کی جانب سے کوئی ادویات نہیں فراہم کی جا رہی۔

 

ناز خاتون کو شکایت ہے کہ ان کو اپنے بچے کے ڈائریا کے علاج کے لیے اسپتال سے ادویات نہیں فراہم کی جا رہی ہیں
اسپتال میں مناسب بلڈ بنک تک کی سہولت دستیاب نہیں ہے جس سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ رول ہیلتھ سینٹر کے  انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نذیر احمد کا کہنا ہے کہ بلڈ گروپنگ  جیسے ضروری ٹیسٹ کی جانچ کی سہولت بھی اسپتال میں نہیں ہے جس کے باعث مریضوں کو ایسے معمولی ٹیسٹ کے لیے بھی تربت یا کراچی  کا رخ کرنا پڑتا ہے.
 ان کا مزید کہنا ہے کہ بلڈ بنک نہ ہونے کے باعث اکثر  حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو بروقت خون فراہم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ “بروقت خون نہ ملنے کے باعث حال ہی میں 3 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ “
 ڈاکٹر نذیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ  ہر 3 ماہ بعد صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے ادویات جاری کی جاتی ہیں جو کہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے لیے ناکافی ہیں۔
رائیٹر کے بارے میں: آرتی دیو پاک وائسز کے لیے پسنی، گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتی ہیں۔

LEAVE A REPLY