بادل بلوچ 
پاک وائسز، پسنی
پسنی شہر کے جنوب مغرب میں واقع یہ قبریں تاریخی اثاثہ ہیں جن کی حفاظت کی جانی چاہیے۔
صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی کی اپنی ایک منفرد اور دلچسپ تاریخ ہے مگر آج اس کی تاریخ سے آج کی نوجوان نسل بہت کم واقف ہے۔
326 قبل مسیح کی سکندر اعظم  کی آمد ہو یا 326 قبل مسیح نیرکس کا گزرہو, پندرویں صدی میں عرب لٹیروں کے حملے ہوں یا سولویں صدی کے پرتگالی حملے یا پھر انیسویں صدی کی انگریز کی یلغار۔۔۔کہتے ہیں ان تمام حملہ آوروں کا گزر پسنی سے ہوا ہے۔
یہ قبریں پسنی شہر کا تاریخی سرمایہ ہیں جو مختلف تہذیبوں کی پسنی میں موجودگی کی گواہی دیتی ہیں۔
پسنی میں نئی دریافت ہونے والی تاریخی قبریں مختلف تہذیبوں کی پسنی میں موجودگی کی گواہی دیتی ہیں۔ ان قبروں میں سے کچھ شہر کے جنوب مغرب کی جانب واقع ہیں. یہ قبریں باقی مقامی قبروں سے مختلف ہیں اور ان سے کافی دوربھی. ان قبروں کی حقیقت جاننے کے لیے پاک وائسز نے علاقے کے پرانے بزرگوں اور ایک تاریخ دان سے بات کی ہے۔
 ان قبروں سے متعلق بلوچی زبان کے شاعر اور تاریخ دان اکرم خان نے کہا کہ ” ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ قبریں ان کلمتیوں کی ہیں جو 16 صدی میں پرتگالیوں سے لڑتے مارے گئے تھے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ  “جب ہم نے ان قبروں کے پتھروں کو معائنہ کیا تو یوں لگا کہ یہ پتھر ساحل کے قریب واقع پہاڑ زرین
سے مشابعت رکتھے ہیں اس پر اکرم کہتے ہیں کہ ” ہوسکتا ہے کہ یہ پتھر اونٹوں سے یہاں تک لایا گیا ہو یا پھر کشتیوں سے۔”
شہر کے مشرقی جانب دریافت ہونے والی قبروں کے بارے میں مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پرتگالیوں یا پھر بدوؤں کی قبریں ہیں۔
  75 سالہ کریم بخش نے کہا کہ ” یہ قبریں ان بلوچوں کی ہیں جو انگریز دور میں لڑائی میں مارے گئے تھے۔” ان کا کہنا تھا کہ “جب ہم نے ان قبروں کے پتھروں کو رگڑ کر صاف کیا تو اس پر مسلمانوں کے کلمے کے ساتھ ساتھ فارسی زبان میں لکھے نام بھی صاف نظر آئے۔”
یاد رہے کہ بلوچوں کی ایک بڑی تعداد فارس سے ہجرت کرکے مکران میں آباد ہو گئی  تھی جسے فارسی بلوچی دونوں زبانیں بول لیتے تھے۔
شہر کے مشرقی جانب بھی کچھ قبریں دریافت ہوئی ہیں ان کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بدوؤں پرتگالیوں کی ہیں جو بلوچوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے تھے۔
رائیٹر کے بارے میں: بادل بلوچ پاک وائسز کے ساتھ پسنی ، گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY