ہانی رمضان

 

گوادر کی تحصیل پسنی میں گرلز کالج نہ ہونے کے باعث طالبات بوائز کالج میں پڑھنے پر مجبور ہیں جہاں کالج میں عارضی طور پر شام کو طالبات کی کلاسز لی جاتی ہیں۔
 2008 میں پسنی میں ایک بوائز انٹر کالج کا آغاز کیا گیا تھا جہاں لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو بھی لیکچرار رضا کارانہ طور پرپچهلے 10 سالوں سے پسنی کی بچیوں کو پڑھا رہے ہیں۔
انٹر کالج پسنی میں اس وقت 288 طالبات زیر تعلیم ہیں ان میں انٹر کی 56  طالبات آرٹس جبکہ باقی میڈیکل کی طالبات ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے ان کو سب سے پہلے اپنی بچیوں کے لیے گرلز کالج چاہے۔
 بوائز انٹر کالج میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد کے باوجود لیکچرار کی بہت کمی ہے یہاں پر پرنسپل سمیت صرف 6 اساتذہ موجود ہیں جو کہ ایک کالج کےلیے بہت کم ہیں۔
2012 سے کالج میں کوئی فزکس کا لیکچرار موجود نہیں ہے۔ بار ہا کوشش کے باوجود کالج کو ابھی تک فزکس کا ٹیچر نہیں فراہم کیا گیا۔
نبیلہ نذیر جو کہ ایک طالبہ ہیں نے پاک وائسز کو بتایا کہ”حکومت کو ہنگامی بنیاد پر پسنی کو ایک گرلز کالج بنا کر دینا چاہیے تاکہ علاقہ کی کوئی بھی بچی تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔”
ایک اور طالبہ شاہنہ حسن نے پاک وائسز کو بتایا کہ “گوادر کی ترقی میں ہمیں (خواتین) کو شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم اور تربیت کے برابر مواقع دئیے جائیں”
پسنی کے رہنے والے شکیل غریب کا کہنا ہے، “پسنی کی بچیاں صرف اپنا حق مانگ رہی ہیں جو حکومت کو فوری طور پر انہیں دینا چاہیے۔”
رائیٹر کے بارے میں: ہانی رمضان پاک وائسز کے لیے پسنی سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتیں ہیں۔ 

LEAVE A REPLY