ظریف بلوچ

پاک وائسز، پسنی،گوادر

پسنی ساحل پر ایک بچہ کشتہ پر سوار ہونے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ماہی گیر مدد کر رہے ہیں۔ (تمام تصاویر فوٹو گرافر بختیار کے فیس بک پیج سے
گوادر کی تحصیل پسنی کے فوٹو گرافر ماشا اللہ بختیار اپنی شاندار تصویروں کی وجہ سے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ خلیجی ممالک میں بھی مشہور ہیں۔ 2015 میں انہیں متحدہ عرب امارات کے راشد المکتوم انٹرنشنل فوٹو گرافی کے مقابلے میں ان کی ایک شاہکار تصویر کو چھٹا نمبر دیا گیا۔
فوٹو گرافر بختیار مقامی ماہی گیروں کے طرز زندگی اور ان کے کام میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے بختیار کہتے ہیں کہ فوٹو گرافی کا شوق انہیں بچپن سے ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ “اس دور میں ہمارے پاس ڈیجٹل کیمرہ نہیں ہوتے تھے اور ہم تصاویر کے لیے فلم رول والا کیمرہ استعمال کرتے تھے جس میں تصویر خراب ہونے کے چانسسز(امکانات) بہت زیادہ ہوتے تھے۔”

 

باپ بیٹے کی تصویر میں مقامی ماہی گیروں کی مشکلات کی کہانی بیان کی گئی ہے۔
 راشد المکتوم انٹرنشنل فوٹو گرافی کے زیر اہتمام منقعد فوٹو گرافی کے مقابلے میں ان کی ایک تصویر جس میں انہوں نے ماہی گیری وابستہ باپ بیٹے کی ایک تصویر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لی تھی جس پر انہیں یہ ایوارڈ ملا۔
باپ بیٹے کی تصویر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ تصویر پسنی کے سب ماہی گیروں کی کہانی بیان کرتی ہے۔
بختیار نے پسنی کے مقامی طرز زندگی کو اپنی تصاویر کے ذریعے اجاگر کیا ہے۔
بختیار ماہی گیروں کے ساتھ ساتھ ساحل اور ساحل پر قدرتی مناظر کو بھی کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
رائیٹر کے بارے میں: ظریف بلوچ پاک وائسز کے ساتھ پسنی سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔
تصاویر کریڈیٹ: ماشاللہ بختیار، فیس بک پیج  

LEAVE A REPLY