آرتی دیو
پاک وائسز، پسنی، گوادر
 پسنی کو بلوچستان کا لکھنئو بھی کہا جاتا ہے اور کیوں نہ کہا جائے جب بہترین اداکاروں، فنکاروں، شعرا،ادیبوں اور مصوروں کا تعلق اسی شہر سے ہو۔
ایسے ہی ایک آرٹسٹ نذیر احمد سے آج آپ کو ملواتے ہیں جن کا پسنی کے ساحل پر ہر سال سینڈ آرٹ کے ہونے والے مقابلوں میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ 38 سالہ نذیر نے کبھی کسی انسٹیٹویٹ سے باقاعدہ تربیت نہیں لی لیکن اس کے باوجود وہ کسی پروفیشنل آرٹسٹ سے کم نہیں۔
البتہ نذیر پسنی کے معروف آرٹسٹ استاد شکراللہ مرحوم جنہیں کیمل آرٹسٹ کے ٹائٹل سے پورا بلوچستان جانتا ہے کو اپنا استاد مانتے ہیں۔ ان سے جو کچھ سکیھا آج وہ نذیر کے کام آرہا ہے۔
نذیر کا کہنا ہےانہیں کھبی اپنی پنٹنگ کی نمائش کا موقع تو نہیں ملا کیونکہ یہاں ایسے ادارے موجود ہی نہیں جو ان کے فن کی حوصلہ افزائی کرتے البتہ ان کے کام کو مقامی سطح پر ہر کوئی سراہاتا ہے۔ نذیر کا اصل کام سینڈ آرٹ میں ہے۔اور وہ پسنی کے ساحل پر چکنی مٹی سے مختلف سینڈ آرٹ کے نمونے بنا چکے ہیں جس پر انہیں خوب پذیرائی ملی۔
نذیر نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ایک سے ایک مجسمہ بنا کر ساحلی علاقوں میں مجسمہ سازی کے فن کو نئی زندگی دی ہے۔
نذیر کا کہنا ہے کہ ان کا ہنر فائن آرٹ ہے لیکن وہ گزر بسر کے لیے کمرشل کام جیسا کہ سائن بورڈ وغیرہ بھی بناتے ہیں۔
رائیٹر کے بارے میں: آرتی دیو پسنی شہر سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتیں ہیں۔
فائل تصاویر: پاک وائسز 

LEAVE A REPLY