علی ظیف

چند برس قبل ہندو لڑکی رنکل کماری کے اغوا اور جبری تبدیلئ مذہب کی دردناک کہانی میڈیا پر آئی تو بہت
سوں نے ہمیشہ کی طرح اسے پاکستان کے خلاف ایک سازش قرار دیا تو کچھ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ اس لڑکی نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا ہے اور اس پر اس حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔ اس خبر کے میڈیا میں آنے سے ایک مثبت لیکن المناک پیشرفت یہ ہوئی کہ ہندو کمیونٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا تعصب، ظلم اور ریاست کی مجرمانہ نااہلی کو پوشیدہ رکھنا ناممکن ہو گیا۔ یہ خبریں بھی آنے لگیں کہ ہندو خاندان پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا جا رہے ہیں۔ غریب الوطنی کا غم وہی جانے جس پر یہ بپتا بیتی ہو۔

لیکن پاکستانی ہندوؤں کی انڈیا کی  ہجرت کا آغاز رنکل کماری اور ان جیسی دیگر لڑکیوں کے جبری تبدیلئ مذہب یا اغوا کے واقعات کے بعد نہیں ہوا بلکہ یہ تو اس وقت ہی ہو گیا تھا جب پاکستان کی اولین کابینہ کے رُکن اور وزیرقانون جوگندر ناتھ منڈل نے وزارت سے استعفیٰ دیا اور انڈیا ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنے مستعفی ہونے اور انڈیا ہجرت کرنے کی ایک وجہ انتظامیہ کی جانب سے ہندوؤں کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعصب کو بھی قرار دیا تھا۔ انہوں نے ایک نئی ریاست میں مساوات اور رواداری پر مبنی سماج کی تخلیق کا جو خواب دیکھا تھا، وہ اس وقت بھی ادھورا رہا اور سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود اب بھی تشنہ ہے۔ وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جوگندر ناتھ منڈل درست تھے۔ ان کا یہ مؤقف بھی درست تھا کہ قراردادِ مقاصد اقلیتوں کے خلاف نفرت کا ایک ایسا بیج بونے جا رہی ہے جسے تناآور درخت بننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ وہ درست تھے کہ اگر آپ غیر مسلم ہیں توآپ کے سانس لینے پر بھی سوال اٹھائے جانے لگیں گے۔

فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں 1962ء سے 1965ء تک وزیرمملکت برائے ریلوے رہنے والے لکشمن سنگھ سوڈھا کے نام سے غالباً زیادہ لوگ واقف نہیں ہوں گے۔ وہ غدارِ وطن قرار پا چکے۔ لکشمن سنگھ سوڈھا کا قصور یہ تھا کہ وہ بنگالیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔ پہلا گناہ تو ان کا ہندو ہونا ہی تھا، دوسرا، مظلوم بنگالیوں پر ہونے والے مظالم پر لب کشائی کرنے پر سزا وار ٹھہرائے جانا تو واجب تھا۔ 1970ء میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں لکشمن سنگھ سوڈھا گرفتار کر لیے گئے، ان پر پاکستانی حکومت کے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ جیل سے رہا ہوئے تو ایک بار پھر بنگالیوں کے قتلِ عام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا گناہ کر بیٹھے۔ ان کا یہ جرم ناقابلِ معافی تھا، ریاستی اداروں نے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ حالات جب قابو سے باہر ہو گئے تو وہ اپنے گاؤں کے 60 ہندو خاندانوں کے ساتھ پاکستان سے انڈیا ہجرت کر گئے اور پھرلوٹ کر کبھی واپس نہیں آئے۔

لکشمن سنگھ سوڈھا کے کزن ہندو سنگھ سوڈھا بھی ایک ایسے ہی غریب الوطن پاکستانی ہیں۔ وہ انڈیا میں آنے والے پاکستانی مہاجرین کا درد، ان کی تکلیفیں کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک تنظیم یونیورسل جسٹ ایکشن سوسائٹی بھی قائم کر رکھی ہے جس سے وابستہ رضاکاروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ انہوں نے فون پر ’پاک وائسز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا:’’پاکستان سے ہندوؤں نے تین مختلف مراحل میں انڈیا ہجرت کی۔ 1965ء کی جنگ کے بعد 10 ہزار ہندو بھارت ہجرت کر گئے۔ 1971ء کی جنگ کے بعد تھرپارکر کے ایک علاقے پر بھارت نے قبضہ کر لیا اور یوں ایک بار پھر 90 ہزار ہندو بھارت ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس وقت تک سرحد پر خاردار تاریں نصب تھیں اور نہ ہی رینجرز گشت کیا کرتی تھیں جس کے باعث پاکستانی ہندوؤں کا ہجرت کرنا آسان تھا لیکن 1990ء میں خاردار تاروں کی تنصیب کا عمل شروع ہوا اور سرحد پر رینجرز گشت کرنے لگیں تو ہجرت کے اس عمل میں کمی تو آئی لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔ بابری مسجد کا سانحہ ہوا تو پاکستان میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس کے بعد سے اب تک 35 ہزار ہندو انڈیا ہجرت کرچکے ہیں۔‘‘

ہو سکتا ہے آپ ہندو سنگھ سوڈھا کے فراہم کئے گئے اعداد و شمار پر یقین نہ کریں اور حکمرانوں اور سکیورٹی ہیئتِ مقتدرہ کی ’’سب اچھا‘‘ کی گردان سے ہی لطف اندوز ہونا چاہیں لیکن ان کے بیان کئے گئے حقائق بہت حد تک درست ہیں کیوں کہ 90ء کی دہائی کے بعد سے انڈیا جانے والے ہندوؤں کی بڑی تعداد پاکستانی پاسپورٹ رکھتی ہے اور وہ ویزا لے کر انڈیا گئے اور وہیں آباد ہو گئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی نے2014ء میں قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر یہ کہا تھا کہ ہر برس تقریباً پانچ ہزار ہندو پاکستان سے انڈیا ہجرت کر رہے ہیں۔

لیکن سندھ میں برسرِاقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رُکن قومی اسمبلی اور ہندو کمیونٹی کے رہنماء رمیش لال ایک جانب تو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سندھ میں ہندو کمیونٹی کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی تو دوسری جانب وہ یہ استفسار بھی کرتے ہیں کہ ہندو آخر پاکستان سے ہجرت کریں گے ہی کیوں؟

ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہندو خاندانوں کے انڈیا ہجرت کرنے کی خبریں میڈیا پر آتی رہی ہیں تو انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:”اگر کوئی جانا چاہے تو ہم اسے روک تو نہیں سکتے اور اگر کچھ لوگ چلے بھی گئے ہیں تو یہ کوئی ایسا سنجیدہ معاملہ نہیں ہے۔” اگر ہندو کمیونٹی اپنے ہی وطن میں محفوظ نہیں ہے اور وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہی ہے تو صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ ان کے لیے حالات ہی ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ وہ اپنا ملک چھوڑ کر دیارِ غیر کا رُخ کر رہے ہیں۔ ہندو سنگھ سوڈھا درست کہتے ہیں:’’پاکستان سے سعودی عرب یا خلیج جانے اور انڈیا ہجرت کرنے میں بہت فرق ہے۔ ‘‘

ہندو مہاجرین کے لیے انڈیا آباد ہونا بھی کچھ آسان نہیں رہا۔ وہ انڈیا میں قیام تو کر سکتے ہیں لیکن ان کو شہری کا درجہ نہیں دیا جا رہا۔ دوسرا، سکیورٹی کے تناظر میں بھی وہ ایک خطرہ تصور ہوتے ہیں۔ ریاستی ادارے ان پر شبہات کا اظہار کرتے ہیں گویا وہ پاکستان کے لیے جاسوسی کر رہے ہوں۔ اس صورتِ حال کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ ہجرت کرنے والوں کے کچھ رشتہ دار اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں جس کے باعث بہت سے پاکستانی مہاجرین نے یہ کہہ کر ’پاک وائسز‘ سے بات کرنے سے معذرت کر لی کہ کہیں ان کا مؤقف پاکستان میں مقیم ان کے باقی ماندہ خاندان کے لیے مشکلات کا باعث نہ بن جائے۔

ہندو سنگھ سوڈھا کے یہ الفاظ اس ساری صورتِ حال کی درست طور پر عکاسی کرتے ہیں:’’ہجرت کرنے والے ان ہندوؤں کے ساتھ پاکستان میں بھی دوسرے درجے کے شہری کا سلوک کیا جاتا تھا اور اب انڈیا میں بھی ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کا سا سلوک کیا جا رہا ہے جس کے باعث پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا آنے والے مہاجرین کی زندگی آسان نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے اس تاثر کو بھی رَد کیا کہ پاکستان سے ہندو کمیونٹی کی ہجرت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب بھی سالانہ تقریباً دو ہزار ہندو مہاجرین انڈیا آ کر آباد ہو رہے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اور ہندو کمیونٹی کے ممتاز رہنماء لال چند ملہی بھی ہندو سنگھ سوڈھا کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سندھ سے اب بھی ہندو کمیونٹی کے ارکان انڈیا ہجرت کر رہے ہیں کیوں کہ وہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی سے خوف زدہ ہیں۔

یہ حالات سندھ کی ہندو کمیونٹی کی مشکلات کا صرف ایک رُخ پیش کرتے ہیں۔ ہندو لڑکیوں کا اغوا اور جبری تبدیلئ مذہب بھی ایک سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ ہے جس کے باعث پاکستان کے محبِ وطن ہندو شہریوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ اگرچہ اغوا اور جبری تبدیلئ مذہب کے واقعات کے حوالے سے کوئی مصدقہ اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں کیوں کہ بہت سے رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے لیکن سندھی پریس میں آنے والی خبروں کے مطابق 2012ء سے 2015ء کے دوران 67 ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا گیا۔ ایک غیرسرکاری تنظیم ساؤتھ ایشین پارٹنرشپ، پاکستان اورعورت فاؤنڈیشن کی جولائی 2015ء میں جاری ہونے والی رپورٹ میں یہ ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر برس ایک ہزار لڑکیوں کو جبری طور پر مسلمان کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں جبری تبدیلئ مذہب کی ایک ایسے مظہر کے طور پر وضاحت کی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو جسمانی، جذباتی یا نفسیاتی دباؤ، جبر،یا دھمکی کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

جبری تبدیلئ مذہب کے حوالے سے سندھ اسمبلی نے گزشتہ برس نومبر میں ایک بل تو پاس کیا لیکن اس کی اہمیت اب بھی کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے رُکن قومی اسمبلی لال چند ملہی کہتے ہیں:’’سندھ اسمبلی نے تو بل پاس کرلیا لیکن یہ نافذ نہیں ہوا کیوں کہ پیپلز پارٹی ملاؤں سے خوف زدہ ہو گئی ہے جس کے باعث گورنر نے مذکورہ بل کی توثیق ہی نہیں کی۔‘‘ انہوں نے یہ تصدیق کی کہ سندھ میں اب بھی جبری تبدیلئ مذہب کے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ لڑکیوں کی زبردستی شادیاں کروائی جا رہی ہیں اور ان کا مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے لیکن اقلیتیں کبھی کسی حکومت کی ترجیح نہیں رہیں جس کے باعث ایسے واقعات سے صرفِ نظر کرنا ہی بہتر خیال کیا جاتا ہے۔

ہندو کمیونٹی کے ان مسائل کے علاوہ ذات پات کی تقسیم بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ شیڈول ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جب اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنے والی ہندو خواتین کا مذہب جبری طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تو ایسے واقعات کے بارے میں میڈیا میں خبریں آ جاتی ہیں لیکن نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو روزانہ ہی ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ چوں کہ اعلیٰ ذاتوں کے ہندو مالی اعتبار سے مستحکم اور سیاسی طور پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں جس کے باعث وہ زیادہ سیاسی نمائندگی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ان وجوہات کے باعث میگھوار، بھیل اور دیگر شیڈولڈ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندوئوں کے اقلیت در اقلیت ہونے کا تاثر تقویت پاتا ہے لیکن لال چند ملہی اس مؤقف سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’’اقلیت در اقلیت کا تصور کچھ غیرسرکاری تنظیموں کی تخلیق ہے۔ یہ صرف پروپیگنڈا ہے تا کہ ہندوؤں کو مزید تقسیم کیا جا سکے۔ گیان چند میگھوار، کرشن بھیل کے علاوہ بھی شیڈولڈ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماء قومی و صوبائی اسمبلی میں منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اگر اب عوام ہی کسی امیدوار کو منتخب نہ کریں تو اسے ہندو کمیونٹی میں اختلافات کا شاخسانہ قرار دینا درست نہیں ہے۔‘‘

انسانی حقوق کے معروف کارکن آئی اے رحمان اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:” شیڈول ذاتوں کے نمائندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سندھ کی ہندو آبادی کے 80 فی صد پر مشتمل ہیں لیکن کسی بھی مردم شماری میں ان کی کبھی درست طور پر گنتی نہیں کی گئی۔”

پرسنل لاز پر بھی ہندو کمیونٹی میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ سندھ حکومت اور وفاق نے حال ہی میں ہندوؤں کی شادیوں کو رجسٹر کرنے کے حوالے سے دو الگ الگ قوانین تشکیل دیے ہیں لیکن ایک بار پھر شیڈول ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندو نظرانداز ہو گئے ہیں کیوں کہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں میں طلاق مذہبی طور پر جائز نہیں ہے جب کہ شیڈول ذاتوں میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کیا گیا قانون تو صرف ہندو جوڑوں کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق ہے اور اس میں طلاق کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں جب کہ وفاق کی جانب سے پاس کئے گئے قانون میں بھی ہندو جوڑوں کے لیے طلاق کے معاملے کو تقریباً ناممکن ہی بنا دیا گیا ہے جس کے باعث شیڈول ذاتوں میں بے چینی کی لہر پائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ اَمر خوش آئند ہے کہ بالآخر ہندو کمیونٹی کا ایک دیرینہ مطالبہ تو پورا ہوا۔

شیڈول ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کی نمائندہ تنظیم بھیل انٹیلکچوئل فورم کے صدر بھاگ چند بھیل ایڈووکیٹ کہتے ہیں:’’ شیڈول ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کے لیے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ وہ اب تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دیگر ہندوؤں کی طرح ہماری کمیونٹی کی لڑکیوں کا مذہب بھی جبری طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے ۔

ہندو پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اور 1998ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی تقریباً 25 لاکھ ہے جن کی اکثریت سندھ میں آباد ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے صوفیاء کی اس دھرتی پر دہشت اپنے پر پھیلا رہی ہے جسے روکنے کے حوالے سے حکومت کوئی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جیسا کہ لال چند ملہی کہتے ہیں:’’قومی ایکشن پلان پر درست طور پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ دہشت گردی کسی ایک مذہب کا مسئلہ نہیں، ہر شہری ہی اس سے متاثر ہوتا ہے اور اس کا مقصد سچل سرمست، لعل شہباز قلندر اور عبدالطیف بھٹائی کے امن و رواداری کے کلچر کو ختم کرنا ہے۔‘‘

لال چند ملہی درست ہی تو کہتے ہیں، سندھ دھرتی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا دیو دن بدن بے قابو ہوتا جا رہا ہے اور اس کا سب سے زیادہ شکار ہندو کمیونٹی ہی بن رہی ہے جن کے تحفظ کے لیے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ کوئی بھی معاشرہ نسلی، لسانی و مذہبی تنوع کو قبول کر کے اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا احترام کر کے ہی ترقی کے سفر پر گامزن ہو سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY