شاہنواز شان

پاک وائسز، اورماڑہ،گوادر

گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول سیرکی کو کئی سالوں سے بند پڑا ہے۔

گوادر کی تحصیل اورماڑہ کا نام آتے ہی خیال پاکستان کی سب سے بڑی نیول بیس کی طرف جاتا ہے یا نیوی کے مشہور بحریہ اور کیڈیٹ کالجز کی طرف جاتا ہے۔لیکن اسی شہر میں ایسے سرکاری سکول بھی ہیں جو صرف نام کے سکول ہے کیونکہ وہاں کبھی بچوں کو تعلیم ہی نہیں دی گئی۔ ایک ایسا ہی سیرکی میں واقع گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول ہے جو کسی بھوت سکول سے کم نہیں ہے۔

گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول ،کنٹگی لین کی عمارت کی خستہ حالی کا ایک منظر

محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق اورماڑہ شہر میں کل 31  سکول بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں جن میں 2 بوائز          ہائی سکول، 2 مڈل سکول، 1 گرلز ہائی سکول، 7 گرلز پرائمری سکول اور 19 بوائز پرائمری سکول کام کررہے ہیں۔

ہائی سکول اور مڈل سکولوں کے حالت تو قدرے بہتر ہے جبکہ پرائمری سکولوں کی عمارت کی حالت کافی نازک ہے۔ کسی سکول کی چار دیواری نہیں تو کسی کی چھت بارشوں میں ٹپکتی ہے۔ گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول سیرکی اسکول کی عمارت پر بھی جگہ جگہ دراڑیں پڑی ہوئیں ہیں۔ شاید اسی لیے محکمہ تعلیم والوں نے سکول کو کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔

گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول، غازی لین کی چھت کا ایک منظر

ایسے میں سکول کے بچے مساجد یا پھر ذکر خانوں میں تعلیم حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسکول کے ایک استاد نے بتایا کہ ” عمارت کی حالت خراب ہے ، اسی لیے ہم بچوں کو کھلے آسمان تلے پڑھانے پر مجبور ہیں۔

ادھر جب پاک وائسز نے ڈپٹی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن  اکبر علی  سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے محکمہ کے پاس اتنا بجٹ نہیں کہ اسکول کے لیے نئے کمرے بنائیں یا ٹوٹے پھوٹی دیواروں کی مرمت کرائیں۔

گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول، غازی لین کی خستہ حال عمارت

اکبر علی کہتے ہیں کہ”یہ کام صوبائی سطح پر ہوتے ہیں ضلعی سطح پرنہیں اور اگرہمیں بلڈنگ اور مرمت کیلئے بجٹ فراہم کیا جائے تو یہ اسکول بہتر بھی ہوسکتے ہیں اور نئے کمرے بھی بن سکتے ہیں “

 رائیٹر کے بارے میں: شاہنواز شان اورماڑہ سے پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

ایدیٹنگ:حسن خان

LEAVE A REPLY