نذر عباس

پاک وائسز، بہاولپور

تاج محل کے بارے میں تو آپ سب نے یقینن سنا ہو گا کہ مغل بادشاہ نے اپنی محبت نور جہاں کی وفات کے ایک سال بعد اس کی یاد میں یہ محل آگرہ میں تعمیر کرایا تھا جو مسلم آرٹ کا شہکار ہے۔ بالکل ایسے ہی نواب آف بہاولپور نواب صادق محمد چہارم نے اپنی ملکہ کی محبت میں ایک محل تعمیر کرایا اور اس کا نام بھی ملکہ کے نام سے منسوب کر دیا۔
 نور محل کی تعمیر بہاول پور ریاست میں 1872میں شروع ہوئی اور تین سال میں 1875میں مکمل ہوئی اور یہ محل 12لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا جسکا نقشہ مسٹر ہیننان  نے ترتیب دیا۔محل کو اطالوی طرز میں بنایا گیا جو  44ہزار 6 سو فٹ مربع تک پھیلا ہوا ہے۔
 اتنی محنت لگن اور محبت سے بنائے گئے محل میں ملکہ اور نواب آف بہاولپور کا قیام صرف ایک رات کا تھا۔  بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ محل کے ساتھ قبرستان ہونے کی وجہ سے ملکہ نے اس محل میں نہ رہنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ محل ویرانے میں ہونے کی وجہ سے ملکہ نے اس محل میں رہنا پسند نہ کیا۔
 محل کے اندر چھتوں پر خوبصورت نقش ونگار بہاول پور ریاست کے حکمران کی منفرد آرٹ میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔  محل میں ایک مرکزی ہال ہے جس میں نواب آف بہاولپور کی تصاویر کے علاوہ ریاست بہاولپور کے دور میں استعمال ہونے والے اسٹام پیپر، ڈاک میں استعمال ہونے والی ٹکٹ، مختلف ادوار میں ریاست بہاولپور کو مختلف ممالک سے ملنے والے میڈلز اور تاریخی تلواریں رکھی گئی ہیں۔
نور محل کی سیر کرنے والے ملک خادم حسین نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “نور محل جیسے تاریخی مقامات جہاں ہمیں اپنی عظیم تاریخ کی یاد دلاتے ہیں وہی ہماری نئی نسل کو تاریخ سے روشناس کرانے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔”
  محل میں لگنے والے فانوس اور فرنیچر بھی اٹلی سے منگوایا گیا جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔  1906میں نواب بہاول خان نے ایچی سن کالج کے نقشے جیسی اس محل میں مسجد تعمیر کرائی۔
 ریاست بہاولپور کے دور میں یہ محل سرکاری تقریبات کا بھی مرکز رہا۔ 1903میں نواب آف بہاولپور نواب بہاول خامس کی دستار بندی کی تقریب بھی اس محل میں ہوئی۔ 1955تک یہ محل صرف سرکاری مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔
1997میں اس محل کو پاک آرمی کے حوالے کر دیا گیا اور اب اس کی دیکھ بھال اور تمام کام کی آرمی خود نگرانی کرتی ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: نذر عباس پاک وائسز کے لیے جنوبی پنجاب سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY