رفیق چاکر

پاک وائسز، پنجگور

اسپتال کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن اسپتال تاحال بند ہے۔
بلوچستان سرکار نے پنجگور میں ایک اسپتال کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے نئی عمارت تعمیر کروائی اور ڈاکڑوں سمیت  عملہ بھی تعینات کر دیا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اسپتال فنکشنل نہیں ہو سکا۔ جی ہاں 8کروڑ کی لاگت سے 50بیڈز پر مشتمل اسپتال بنایا گیا اور اسپتال کے ڈاکڑ آج بھی باقاعدگی سے تنخواہ لے رہے ہیں مگر اسپتال میں آج تک ایک بھی مریض کا علاج نہیں کیا گیا۔
 پنجگور کے علاقے خدابادان میں 16مارچ 2009  اسپتال کی بنیاد رکھی گئی۔ اسپتال تین سالوں میں مکمل ہوا اور اس میں ڈاکڑوں سمیت عملہ کی تعیناتی کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا لیکن اس کے باوجود اسپتال کو فنکشنل نہیں کیا جا سکا۔
 خدابادان کے قریبی علاقے گرمکان کے ایک رہائشی عبدالرؤف بلوچ نے پاک وائسز سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے میں بڑا اسپتال نہ ہونے کے باعث انہیں دور چتکان بازار میں علاج و معالجہ کے لیے جانا پڑتا ہے جس سے ایمرجنسی صورتحال میں مریض کی جان کے لیے بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا “اگر خدابادان میں یہ اسپتال فنکشنل ہو جائے تو اس سے علاقے کی بہت بڑی تعداد کو فائدہ پہنچے گا۔”
50 بیڈز پر مشتمل اسپتال کو کھولنے سے علاج و معالجے کی سہولت سے محروم علاقے کے لوگوں کو صحت تک رسائی ملے گی۔
سراوان خدابادان کے رہائشی نور محمد نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “اسپتال پر “کروڈوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کی عدم موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے۔”
 اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر شکیل احمد بلوچ سے جب ہم نے رابطہ کیا تو انہوں نے تاخیر کے حوالے سے  جواب دینے کے بجائےکہا کہ مزید ایک ماہ تک اسپتال کو فنکشنل بنا دیا جائے گا۔
پاک وائسز کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپتال کی موجودہ انتظامیہ صوبائی حکومت کے دباؤ میں اسپتال نہیں کھول رہی۔ یہ منصوبہ پرانی حکومت کے دور میں شروع کیا گیا تھا اسی لیے موجودہ حکومت اس کا کریڈیٹ سیاسی مخالفین کو نہیں دینا چاہتی۔
منصوبے کے کنٹریکٹر زیمل کنسٹرکشن کمپنی کے مالک چاکر بلوچ نے بھی تصدیق کی کہ اس پروجیکٹ کا تعمیراتی کام  مکمل ہوئے کم از کم تین سال گزر گئے ہیں اور اس کو باقاعدہ متعلقہ ادارے کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
رائیٹر کے بارے میں: رفیق چاکر بطور سٹیزن جرنلسٹ پاک وائسز کے لیے پنجگور سے کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY