برکت اللہ بلوچ 

پاک وائسز، گوادر 

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے(سی پیک) میں بلوچستان کی گوادر بندر گاہ کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔سی پیک کے مختلف منصوبوں میں پاکستان کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ “نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ”بھی شامل ہے۔

چین کی جانب سے گرانٹ کی منظوری کے بعد حکومت نے ترقیاتی کام کو تیز کر دیا ہے جبکہ ائیرپورٹ کے فیز ٹو کی تعمیر کا کام کا آغاز اسی سال دسمبر میں متوقع ہے۔
نیو گوادرانٹرنیشنل ائیر پورٹ شہر سے 14 کلومیٹر دور گوادر شہر کے شمال میں گرانڈانی کے مقام پر تعمیر کیا جارہا ہے۔نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سجاد احمد نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ائیرپورٹ ہے جس کا رقبہ 4 ہزار 3 سو ایکڑ پر مشتمل ہے۔

ائیرپورٹ کا رن وے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے رن وے کے برابر ہوگا۔اس ائیرپورٹ پر دنیا کے سب سے جدید ترین ڈبل ڈیکر طیارے بھی لینڈ اور ٹیک آف کرسکیں گے۔نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ چین کی حکومت کی جانب سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر سجاد احمد نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ  “یہ ائیرپورٹ چین کی جانب سے پاکستان کے لئے ایک تحفہ ہے جس پر آنے والے اخراجات چینی حکومت برداشت کرے گی اور ائیرپورٹ 3 سال میں تیار کیا جائے گا۔
احمد نے مزید بتایا کہ گنجائش کے لحاظ سے بھی ائیرپورٹ میں 500 گاڑیوں کی پارکنگ کے ساتھ 30 ہزار ٹن سالانہ کارگو کی سہولت بھی موجود ہوگی۔

اس کے علاوہ ائیرپورٹ پر بڑے بڑے جہاز جن میں  پی کے 737 ، ائیر بس اے 320 ‘ 200 ‘ پی کے777 اے‘ 330 اور 340 ائیرکرافٹ شامل ہیں، پارکنگ کرسکیں گے۔نیوگوادرانٹرنیشنل ائیرپورٹ کے فیز2 پر ابھی تک کام شروع نہیں ہوسکا ہے جس پر پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کچھ یوں وضاحت کی: “ائیرپورٹ کی ڈیزائننگ پر ابھی تک کام ہورہا ہے جس کے بعد فیز ٹو پر کام شروع کیا جائے گا۔”

نیو گوادر انٹرنیسنل ائیرپورٹ کا پی سی ون 2010 میں تیار کیا گیا تھا جبکہ 2015 میں نظرثانی کی گئی تھی۔اس حوالے سے پروجیکٹ ڈائریکٹر سجاد احمد کا کہنا تھا کہ پی سی ون پر نظرثانی 2015 میں کی گئی تھی اور کل تخمینہ لاگت 22 ارب روپے سے زائد کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین جمالدینی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  “نیو گوادر ائیر پورٹ کی تعمیر سے نہ صرف آمد ورفت میں سہولت ملے گی بلکہ اس سے کاروبار کے بھی وسیع مواقع پیدا ہونگے۔کارگو کے ذریعے بڑی تعداد میں تجارتی سامان کی ترسیل ہوگی اور ایئرپورٹ میں ڈیوٹی فری شاپس بنائی جائیں گی۔”
اس کے علاوہ ائیرپورٹ کے فنکشنل ہونے کے ساتھ ابتداء ہی میں کم از کم تین سے چار ہزار ملازمتیں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انھوں نے مذید کہا کہ اس ہوائی اڈے پر دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ 380 ٹیک آف اور لینڈ کرسکے گا۔ یہ ایئرپورٹ دبئی ، سنگاپور اور دوحہ  جیسے ہوائی اڈوں کی طرح آمدورفت اور کاروباری اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
ائیرپورٹ پر تعمیراتی کام کے حوالے سے دوستین جمالدینی کا کہنا تھا کہ پہلے فیز میں عمانی گرانٹ سے کچھ تعمیرات ہوئی ہیں جن میں باڑ، سیکیورٹی ٹاورز اور سڑکیں شامل ہیں جبکہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کی جانب سے بھی کوسٹل ہائی وے سے ائیرپورٹ تک اپروچ سڑکیں  تعمیر کی گئیں ہیں۔

اب سیکنڈ فیز میں چین کی جانب سے کام کا آغاز دسمبر 2017میں متوقع ہے۔

گوادر پریس کلب کے صدر اور مقامی صحافی بہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر نیو انٹر نیشنل ائیرپورٹ کا منصوبہ سی پیک منصوبے سے قبل کا ہے اس وقت اس منصوبے پر پاکستان خود کام کرنا چاہتا تھا لیکن سی پیک کے بعد چینی حکومت نے اس منصوبے کو اپنے ذمہ لیا ہے۔

اس وقت ائیرپورٹ ایریا میں جتنے بھی کام ہوئے ہیں وہ سی پیک منصوبے سے قبل کے ہیں جو عمانی گرانٹ سے کئے گئے ہیں جبکہ سی پیک منصوبے کے بعد دوسرے فیزمیں چین کام کرے گا۔
رائیٹر کے بارے میں: برکت اللہ بلوچ پاک وائسز کے ساتھ گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY