ارشد وحید چوہدری

دنیا بھر کے سائنسدان اور ماہرین متفق ہیں کہ کرہ ارض کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلیاں گرین ہاوس گیسوں جنہیں زہریلی گیسیں یا کاربن بھی کہا جاتا ہے کے اخراج سے پیدا ہو رہی ہیں۔انہی زہریلی گیسوں کے اخراج کے باعث اوزون کی تہہ متاثر ہوتی ہے جس سے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق یہ گرین ہاوس گیسیں فضاء میں سالہا سال تک موجود رہتی اور موسم کی شدت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین اور سمندر کا درجہ حرارت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔عالمی درجہ حرارت میں اسی شدت کی وجہ سے کہیں سیلاب تباہی مچا رہے ہیں تو کہیں خشک سالی سے قحط جنم لے رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں کسی خطے میں پانی کی سخت کمی کا باعث بن رہی ہیں تو کسی بر اعظم میں خوراک کی کمی انسانوں کو ڈھانچوں کا روپ دے رہی ہے۔زمین پر بسنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں جو غیر معمولی موسم کے اثرات سے محفوظ ہو۔

مسئلے کی حساسیت کے پیش نظر ڈیڑھ سال پہلے پیرس میں عالمی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں دنیا بھر سے ڈیڈھ سو کے قریب رہنماوں نے شرکت کی اور یہ عزم ظاہر کیا گیا کہ عالمی درجہ حرارت کو دو ڈگری سیلسئیس سے کم رکھا جائے گا۔ یہ بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک ایک مشترکہ فنڈ میں آئندہ پانچ سال تک 100 ارب ڈالر فراہم کریں گے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے جو موسم کے اتار چڑھاو کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق موسمیاتی تبیلیوں کی وجہ سے پاکستانی معشیت کو سالانہ 400 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال ایسے ہی رہی اور موسمیاتی شدت سے نمٹنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پاکستان کو سالانہ 14 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ماضی قریب کی بات ہے جب سال 2010 کے بد ترین سیلاب سے ملکی معشیت کو 10 ارب ڈالر کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔جنوبی پنجاب ہو یا پھر سندھ کے پسماندہ علاقے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی قدرتی آفات کی زد میں بھی یہاں کے غریب لوگ ہیں۔

سیلابی ریلوں سے دو کروڑ سے زائد آبادی متاثر ہوئی اور 20 لاکھ پاکستانی بے گھر ہو گئے تھے۔ امریکی جیوفزیکل یونین کی ایک تحقیق کے مطابق اگر پاکستان نے یورپین سنٹر فار میڈیم رینج ویدر فور کاسٹنگ کی طرف سے تیار کیے جانے والے ڈیٹا تک رسائی کی کوشش کی ہوتی تو اسے دس دن پہلے وارننگ مل جاتی اور اتنے وسیع پیمانے پر جانی اور ماالی نقصان نہ ہوتا۔

پاکستان کا عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں 153 واں نمبر ہے جبکہ آلودگی پھیلانے میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم یعنی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اسے دوسروں کے کیے کی سزا بھگتنا پڑ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیرس کانفرنس میں پاکستانی وفد نے زور دیا تھا کہ اگر زہریلی گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں تو ان سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا بھی انہی ترقی یافتہ ممالک کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے جو اس کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں جو ایکشن پلان جمع کرایا ہے اس میں بھی انہی نکات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی برادری نہ صرف پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل فراہم کرے بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور استعداد کار میں اضافے میں بھی معاونت فراہم کرے۔

یہ انہی موسمیاتی تبدیلیوں کا کمال ہے کہ پاکستان میں ہر سال جیسے ہی مون سون شروع ہوتا ہے تو سیلاب کا خوف دامن گیر ہو جاتا ہے، کم وبیش ہر سال ایک جیسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بے قابو پانی عمر بھر کی جعع پونجی بہا لے جانے کے ساتھ مفلسوں کو زندگی کی قید سے بھی آزاد کر دیتا ہے۔

ارباب اختیار رپورٹیں طلب کرتے ہیں،اجلاس در اجلاس منعقد ہوتے ہیں ،نقصانات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے ،متاثرین کے لیے امداد کے اعلانات ہوتے ہیں ،فوٹو سیشن منعقد کیے جاتے ہیں، دو چار افسران کی گو شمالی ہوتی ہے اورپھر آئندہ مون سون کے انتظار میں لمبی تان لی جاتی ہے۔ کسی کےکانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی بھلے اقوام متحدہ کا ادارہ ورلڈ ریسورس انسٹیٹیوٹ تنبییہ کرتا رہے کہ پاکستان میں 2030 تک سالانہ 27 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوں گے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت کے باعث اب کبھی غیر معمولی گرمی انسانی جانوں کو نگلنے لگی ہے تو کہیں پانی نایاب ہو رہا ہے۔دو سال قبل کراچی میں گرمی کی شدید لہر سے گیارہ سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔خشک سالی سے تھر میں سینکڑوں بچوں کی اموات بھی انہی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں اور ان سے نمٹنے کی عالمی کوششیں اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان دنیا کو درپیش سب سے بڑے خطرے کی حساسیت کا پوری طرح ادراک رکھتا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔جواب یقینا تسلی بخش نہیں ہے ۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو وفاق کی سطح پہ موسمیاتی تبدیلی کے نام سے ایک وزارت تو قائم کر دی گئی لیکن اس کے لیے کل وقتی وفاقی وزیرتک دستیاب نہیں ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی اہمیت یہ ہے کہ رواں مالی کےبجٹ میں ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے لیے صرف ایک ارب چھ کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی جو گزشتہ سال کے نظر ثانی شدہ بجٹ سے بھی دو فیصد کم ہے۔ موسم کے تیور بتانے والے ادارے محکمہ موسمیات کا یہ عالم ہے کہ اسے درکار فنڈز تک فراہم نہیں کیے جا رہے اور ادارہ متروک ریڈارز کی مدد سے موسم کے اتارچڑھاو کے بارے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔

ریڈارز کی تبدیلی تو دور کی بات ہر سال سیلاب سے تباہی مچانے والے نالوں میں بارش ماپنے کے خراب بیرومیٹرز تک کو ٹھیک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔ محکمہ موسمیات کی طرح فیڈرل فلڈ کمیشن اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کا حال بھی یہ ہے کہ حفاظتی اقدامات کی بجائے پانی سر سے گزرنے کے بعد ان کا زور صرف امدادی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ صوبائی اور ضلعی انتطامیہ کے ادارے جس استعداد کار کے مالک ہیں اس کی قلعی کسی شہر میں ہونے والی ایک تیز بارش ہی کھول دیتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے سالانہ مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا ایک فیصد تک نقصان کرانے والے ملک پاکستان کو صرف عالمی سطح پہ ایکشن پلان جمع کرا دینے پر ہی اکتفا نہیں کرنا ہو گا بلکہ ملک اور قوم کو موسمیاتی تبدیلیوں سے پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصانات سے بچانے کے لیے جامع اقدامات ممکن بنانا ہوں گے ۔ ارباب اختیار کو یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئیے کہ اگر کرہ ارض کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین خطرے سے لاپرواہی کا یہی وطیرہ جاری رہا تو ملکی معیشت کو پہنچنے والا سالانہ 1 ارب 70 کروڑ ڈالر کا نقصان آئندہ تین دہائیوں میں 14 ارب ڈالر تک جا پہنچے گا۔لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیاں داو پہ لگنے کا المیہ الگ ہو گا۔

:کالم نگار کا تعارف

ارشد وحید چودھری جیونیوز کے نمائندہ خصوصی اور جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں۔

@arshad_Geo :ٹوئٹر اکاؤنٹ

LEAVE A REPLY