تحریر صہیب اقبال

تاریخی عمارتیں کسی بھی شہر کا اثاثہ ہوتے ہیں شجاع آباد نواب شجاع خان کے صاحبزادے نواب مظفر خان کا یہ محل صرف شجاع آباد کا تاریخی ورثہ نہیں ہے بلکہ اس ملک کا بھی تاریخی ورثہ ہے ۔

نواب مظفر خان ملتان کے مشہور پٹھان حاکم نواب شجاع خان کے بیٹے ہیں نواب مظفر خان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ملتان اور شجاع آباد کے ہندو بھی ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے نواب مظفر خان نے سکھوں کیخلاف جو مزاحمتی کردار ادا کیا وہ اس خطے کی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ بعد ازاں 1818میں ان کا سکھوں کے خلاف مزاحمتی کردار اور شہادت انہیں اس خطے کا ہیرو بنا گئی ۔

شہری عبد الرزاق نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آثار قدیمہ کی بے حسی کے سبب اب یہ محل کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے ہر دور کے صاحب اقتدار اس محل کی تزئین و آرائش کے نام پر عوام سے وعدے کرتے رہے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا اس تاریخی ورثے کی طرف حکومت وقت آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے سبب عوام نے اس سے قیمتی اشیاء چرا کر قومی ورثے کو تباہ کر دیا۔

شجاع آباد کے رہائشی شوکت نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواب مظفر خان کا محل تاریخی اہمیت کا حامل ہے نواب مظفر خان کے والد نواب شجاع خان ملتان میں حاکم بھی رہے اور شجاع آباد کا نام بھی انہی کے نام سے منسوب ہے ۔ یہ محل محکمہ آثار قدیمہ کی روایتی سستی کے باعث خستہ ہوگیا اور خدشہ ہے یہ عمارت منہدم نہ ہو جائے اس لیے انتظامیہ کو بروقت اقدامات کرنا ہوں گے ۔

محکمہ آثار قدیمہ کے افسر ملک غلام محمد نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواب مظفر خان کا محل کی خستہ حالی سے آگاہ ہیں تاہم محکمہ کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے تاریخی محل کی تمام تر حالت سے اعلی حکام کو آگاہ کردیا ہے اور فنڈز کا بھی مطالبہ کیا ہے تاہم جیسے ہی فنڈز ملیں گے اس تاریخی ورثے کو اصل حالت میں بحال کردیں گے ۔

اہل علاقہ نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت جہاں حکومت وقت آثار قدیمہ کی ذمہ داری ہوتی ہے وہیں عوام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی حفاظت کریں جب اس محل کی تمام قیمتی اشیاء چرا لی گئیں تو اسسٹنٹ کمشنر نے کھنڈرات میں بدل جانے والے اس محل کو ہر طرف سے بند کر دیا تاحال اس تاریخی ورثے کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کے منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا عوامی و سماجی حلقے اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریخی ورثے کی تزئین و آرائش کے منصوبے پر جلد عمل درآمد کیا جائے۔

LEAVE A REPLY