صہیب اقبال

جنوبی پنجاب کا خطہ تعلیم کے اعتبار سے بہت پسماندہ ہے ۔ شرح خواندگی بھی پنجاب کے دیگر علاقوں سے اس خطے میں کم ہے۔ گزشتہ حکومتوں کی جانب سے تعلیم کے شعبوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث جنوبی پنجاب تعلیم کے میدان میں آگے نہ بڑھ سکا۔

زیر نظر تصاویر جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے سکول کی ہیں ۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کوتوال والا کی یہ عمارت انتظامیہ  عدم توجہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سرکاری سکول کی یہ عمارت بچوں کو پڑھانے کی بجائے جانوروں کے بھانے میں بدل چکی ہے اس عمارت میں نشے کے عادی افراد نے بھی ڈھیرے ڈال رکھے ہیں ۔

مظفرگڑھ کے علاقے کوتوال کے رہائشی اللہ رکھا نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے بنایا گیا سکول نشئیوں اور چوروں کی آماجگاہ بن گیا سرکاری سکول کی عمارت میں بچوں کو پڑھانے کی بجائے جانوروں کا بھانے میں بدل گیا۔سرکاری سکول کی عمارت کھنڈر میں بدل گئی گورنمنٹ پرائمری سکول کوتوال والا کی نئی تعمیر ہونیوالی عمارت بھوت بنگلہ بن گئی۔محکمہ تعلیم کے افسران کی نااہلی کی وجہ سے 4 سال قبل 70 لاکھ روپے کی مالیت سے بننے سکول کی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔

مظفرگڑھ کے رہائشی شہری امجد علی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں اس حوالے سے حکومتی نمائندوں اور سرکاری افسران کو آگاہ کیا ۔ اس حلقہ این اے 182 کا ایم این اے مہر ارشاد سیال پیپلزپارٹی اور حلقہ پی پی 270 سے ایم پی اے سردار عبدالحئی خان دستی تحریک انصاف سے ہے ۔ لیکن سکول کی حالت نہیں بدلی گئی جو کہ افسوسناک ہے۔

مظفرگڑھ کے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب میں تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی خاص طور پر مظفرگڑھ کو پسماندہ رکھا گیا ہے اس خطے کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم ہو اب نئی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ تعلیم کے شعبے میں ترقی کے لیے کردار ادا کرے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن فیاض بزدار نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محلہ کوتوال سکول کی صورت حال کا نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ افسران سے جواب طلب کیا ہے ۔ سکول کی خستہ حالی کے زمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

LEAVE A REPLY