صہیب اقبال
ملتان میں محکمہ اوقاف کی کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا ماڈل مدرسہ ویران ہو گیا جبکہ عدم توجہی کے باعث عمارت بھی بھوت بنگلہ کا منظر پیش کررہی ہے .
محکمہ اوقاف کی جانب سے بارہ سال قبل  ایک کروڑ روپے روپے سے زائد لاگت سے ملتان کے علاقے باقراباد میں ماڈل مدرسہ تعمیر کیا گیا   ۔ یہ ماڈل مدرسہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا جبکہ عمارت میں موجود ٹوٹیاں پنکھے اور دیگر سامان بھی چوری ہوچکا ہے  ماڈل مدرسے میں کمپیوٹر ، جدید دینی علوم کی تعلیم اور لائیبریری کا قیام بھی عمل لایا جانا تھا مگر منصوبہ ناکامی سے دوبار ہوگیا .
علاقہ مکین ارشد علی نے  پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  2006 میں ملک میں  دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لہر تھی اس وقت کی حکومت نے ماڈل مدرسے بنانے کا فیصلہ کیا اس مدرسہ میں طلباء کو دینی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر اور سائنس کی خصوصی تعلیم دی جانی تھی لیکن انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث یہ مدرسہ فعال نہیں ہوسکا .
.شہری اشتیاق نے پاک وائسز کو بتایا کہ  یہ مدرسہ اج سے پانچ سال قبل کچھ عرصہ کے لیے فعال ہوا اور پھر اچانک محکمہ اوقاف نے بند کردیا جس کے باعث طلباء جدید علوم سے محروم ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے اب بچیاں تعلیم کے لیے دور دراز کے مدارس میں جاتی ہے جہاں جدید تعلیم بھی میسر نہیں ہے۔
محکمہ اوقاف کی جانب سے دو ہزار چھ میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے یہ ماڈل مدرسہ بنا گیا تاہم  پاک وائسز کی نشاندھی پر محکمہ اوقاف کے زونل ایڈ منسٹریٹو ضیاء المصطفیٰ نے کہا کہ آج سے  بارہ سے قبل انتہا پسندی کو روکنے کے لیے جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ماڈل مدرسوں کا منصوبہ بنایا گیا اس حوالے سے ایک مدرسہ ملتان میں بھی بنایا گیا۔ ماڈل مدرسے کی بہتری کیلئے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور لاہور فنڈز کے لیے درخواست بھیجوا دی ہے  فنڈز آتے  ہی مدرسہ کی  حالت بہتر کردیں گے .
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد سے جلد مدرسے کی حالت ٹھیک کرکے تدریسی عمل کا آغاز کرے تاکہ طلباء دوردراز حصول تعلیم کے لیے نہیں جانا پڑے گا

LEAVE A REPLY