ارشد وحید چودھری

تقسیم ہند کے وقت ہندو مسلم تفریق اپنے عروج پر تھی جس کے نتیجے میں ہزاروں سال سے اپنی سرزمین پر رہنے والے کروڑوں لوگوں کو دربدر ہونا پڑا ۔لاکھوں خون میں نہلا دئیے گئے جبکہ سینکڑوں خواتین کو صرف اس لیئے بے آبرو کیا گیا کہ آبرو ریزی کرنے والوں کے نزدیک ان کا تعلق کسی دوسرے عقیدے سے تھا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ اس تقسیم سے دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے۔ بٹوارے کے نتیجے میں نئی سرحدوں نے ملتے جلتے کلچر اور زبان کے لوگوں کے درمیان خونی لکیر بھی کھینچ دی تھی۔

تقسیم کے بعد بھارت نے سیکولر ریاست کے طور پر اپنی شناخت کا انتخاب کیا۔ جبکہ پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ نے اسے اسلامی ریاست کے طور ڈھالنے کی کوشش کی ۔پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل بھی دل برداشتہ ہوکر ملک چھوڑ کر بھارت چلے گئے۔ تعلیمی پالیسی کی بنیاد بھی کم و بیش مذہب کو بنایا گیا۔

:قائد اعظم کا پاکستان

قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے تین دن قبل آئین ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں واضح کردیا تھا کہ مسلمانوں کی نئی مملکت میں کوئی ہندو ہو گا نہ کوئی مسلمان۔ سب پاکستانی ہوں گے جنہیں مسجدوں اور مندروں میں جانے کی مکمل آزادی ہو گی۔ یہ بھی واضح اعلان کیا گیا کہ ریاست کا تعلق صرف شہری سے ہوگا اس کے عقیدے میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ اس واشگاف پالیسی بیان سے قائد اعظم کے بعض اکابرین ناراض بھی ہوئے۔ قائد کی اس تاریخی تقریر کی گمشدگی بھی اسی لئے آج تک ایک معمہ ہے۔

:ریاست کا مذہب میں کردار

قائد اعظم کے انتقال کے ایک سال بعد ہی قرارداد مقاصد کے نام سے جو دستاویز منظور کی گئی اس میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان میں حاکمیت اللہ کی ہوگی اور خلاف شریعت کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی۔ یہ قرارداد مقاصد پاکستان کے ہر آئین کا حصہ رہی۔1973 کے آئین کی منظوری کے فوری بعد جو پہلی ترامیم آئین میں کی گئیں ان میں ایک ترمیم کے تحت پاکستان میں رہنے والےاحمدیوں کو کافر قرار دے دیا گیا۔۔ ضیالحق کے دور میں احمدیوں کی مساجد کو عبادت گاہ قرار دیا گیا اور توہین قانون میں مزید پابندیاں لگائی گئیں۔ اسی دور میں پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ پر تشدد میں تبدیل ہوا۔

:اقلیتی مسلم مماملک کو کافر قرار دینے کا مطالبہ

اسی کی دھائی کے بعد بعض اقلیتی مسلم ممالک کو بھی کافر قرار دینے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، حکومت نے اس طرح کے مطالبات کرنے والوں کو روکنے کی بجائے خاموشی کی پالیسی اختیار کئے رکھی جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر مسلمانوں کے درمیان بھی تفریق میں اضافہ ہوتا گیا۔

:عبادت گاہیں بھی غیر محفوظ

پاکستان میں ہونےوالی دہشت گردی کا شکار مسلم غیر مسلم اقلیتیں بھی بنیں ۔سندھ میں پچانوے فیصد ہندو آبادی آباد ہے ۔ لاڑکانہ سے لیکر ٹنڈو محمد خان تک ان کی مندر بھی محفوظ نہیں رہے۔ لیکن مندروں پہ حملوں میں ملوث ملزمان کوسزا نہ ملنے سے ہندو اقلیت کود کو غیر محفوظ سمجھنے لگ گئی۔۔ پاکستان ميں ہندوؤں کی تعداد قومی آبادی کا 5.2 فيصد ہے٬ جن کی اکثريت جنوبی صوبہ سنده ميں آباد ہے۔

:پاکستانی اقلیتیں ملک چھوڑنے پر مجبور

انسانی حقوق کی تنظيموں کے مطابق ہندوؤں ميں عدم تحفظ کا احساس تيزی سے بڑه رہا ہے۔ پاکستانی ہندوؤں کی ايک فلاحی تنظيم ‘ہندو سيوا’ کے مطابق 2008ء سے ہر ماه قريب 10 ہندو خاندان پاکستان سے ہجرت کر رہے تهے٬ جب کہ 2012 ميں يہ تعداد کہيں زياده ہو چکی تهی۔ اس بارے ميں ہيومن رائڻس کميشن آف پاکستان کے مطابق پاکستانی ہندوؤں کی تيز رفتار نقل مکانی کی ايک اہم وجہ ہندو آبادی میں پایا جانے والا یہ خوف بهی ہے کہ انہيں ممکنہ طور پر مذہب کی جبری تبديلی پر مجبور کيا جا سکتا ہے۔

عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے پاکستان میں مسلم اور غیر مسلم اقلیتوں میں ملک چھوڑنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ رکارڈ کیا گیا ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق 1999 سے 2003 تک صرف کراچی شہر میں ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے 50 ڈاکٹروں کو قتل کردیا گیا جبکہ اسی خوف سے اسی مسلک کے دیگر 500 ڈاکٹر ملک چھوڑ کرچلے گئے۔ 2013ء مذہبی اقليت کے ليے سب سے خونريز سال ثابت ہوا جب صوبہ بلوچستان ميں ہزاره برادری کے 600 لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔

:توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال

پاکستان کی سب سے بڑی غیر مسلم اقلیت مسیحی برادری ہے ۔ پنجاب کے بعض علاقوں میں اس اقلیت کو بھی پر تشدد واقعات سے گذرنا پڑا ہے۔ ان کی عبادت گاہوں پر حملے کیئے گئے اور ان کی رہائشی کالونیوں کو بھی نذر آتش کرنے جیسے افسوناک واقعات رونما ہوئے۔ ان حملوں کے ملزمان کو بھی کاطر خواہ سزا نہ مل سکی ۔ مسیحی اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں کو یہ بھی شکوہ ہے کہ ان کے خلاف مقدس ہستیوں کی توہین کے قانون کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے اور ریاست متاثرہ لوگوں کی شنوائی نہیں کرتی۔

:احمدی کمیونٹی کا شکوہ 

احمدیوں کو بھی شکایات ہیں کہ پاکستان میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ 2010 میں لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر دھشت گرد حملے میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ احمدی مسلک کے لوگ بھی ملک چھوڑ کر جانے والوں میں شامل ہیں۔

پاکستان ميں آباد چهوڻی مذہبی اقليتوں ميں پارسی بهی شامل ہيں جن کی آبادی بھی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے اور ایک اندازہ ہے کہ کراچی میں صرف 1500 پارسی باقی رہ گئے ہیں۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور پیپلز پارٹی کےوفاقی وزیر شہباز بھٹی کا قتل بھی توہین مذہب کے قانون کے تناظر میں ہوا جس میں ریاست ایک بار پھر بے بس نظر آئی اور اقلیتیوں میں مزید عدم تحفظ پیدا ہوا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کرے اور اقلیتوں کے خلاف جرائم میٕں ملوث ملزمان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کویقینی بنایا جائے۔اقلیتوں میں یہ احساس پختہ کیا جانا ضروری ہے کہ وہ بھی پاکستان کے مساوی شہری ہیں۔

:کالم نگار کا تعارف

ارشد وحید چودھری جیونیوز کے نمائندہ خصوصی اور جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں۔

@arshad_Geo :ٹوئٹر اکاؤنٹ

LEAVE A REPLY