بشریٰ اقبال

پچھلے دس پندرہ سال میں پاکستان کے ابلاغ کا منظرنامہ کچھ اسطرح بدلا ہے کے ہزاروں نوجوان دلوں میں صحافی بننے کا جنون پیدا ہو گیا، ایک طرف الیکڑونک میڈیا ایک صنعت میں بدل گیا اور دوسری طرف ٹی وی سکرین نے کچھ صحافیوں، تجزیہ کاروں اور میزبانوں کو اتنا مشہور کر دیا کہ وہ گھر کے افراد کی طرح جانے پہچانے ہوگئے۔

اس پہ طرہ یہ کہ کچھ سکرین پے قابض شخصیات نے بادشاہ گر اور عوامی ذہن سازی کا کام اس مہارت سے انجام دینا شروع کر دیا کہ نوجوان میڈیا کو نجات دہندہ اور خود کو کسی سپر مین صحافی کے کردار میں دیکھنے کے لیے بے چین نظر آنے لگے۔ ان میں سے بیسیوں نے میڈیا سکول یا جرنلزم میں تعلیم بھی حاصل کرلی، یا کر رہے ہیں۔ لیکن کیا صحافی بننا اتنا ہی آسان ہے؟

ایک ایسا ملک جسے صحافیوں کے لیے خطرناک جگہ سمجھا جائے، جہاں خبر دینے والے سنکڑوں افراد خود خبر بن چکے ہوں وہاں اپنے نام کے ساتھ صحافی لکھنا کبھی کبھی موت کو براہ راست دعوت دینا بھی ثابت ہو جاتا ہے۔ پھر بھی جب میں اندرون سندھ ، جنوبی پنجاب یا خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ کے لے گئ۔

مجھے ایسے کئی نوجوان ملنے آئے جو کسی نا کسی طرح کسی بڑے ٹی وی چینل تک پہنچنا چاہتے تھے، یا کسی بڑے اخبار سے منسلک ہونا چاہتے تھے۔ ان کے پاس ان کے علاقے کی ڈھیروں خبریں بھی تھیں اور نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا جذبہ بھی۔

لیکن میرے پاس انہیں دینے کو تسلی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔میڈیا مالکان کو خبر کی خبریت سے کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی۔ اب بنیادی مواد ایڈیٹرکے بجائے مارکیٹینگ منیجر کی مرضی سے چھاپا جاتا ہے یا دکھایا جاتا ہے۔ ملک کا میڈیا ڈھڑوں میں بٹ کر مقامی رپورٹرز کے لئے مزید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔

دور دراز کے مقامی صحافی کو اول تو کوئی مرکزی میڈیا سے پوچھتا نہیں، اور اگر شومئی قسمت کوئی کسی بڑے اخبار/ چینل سے وابستہ ہو بھی جائے تو اس کی بھیجی اکژ خبریں اڑا دی جاتی ہیں۔ یا کسی بڑے حادثے، واقعے یا الیکشن کے دوران اس بے چارے رپورٹر جو کے کمیرا مین، ایڈیٹر اور رپورٹر کے علاوہ ڈرائیور بھی خود ہی ہوتا ہے، کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔

نیوز چینل کے مرکزی بیورو میں بیٹھے افسران جیسے صحافی کے ساتھ بالکل امریکی مطالبہ کرتے رہتے ہیں ” ڈو مور”، اور برکینگ نیوز کے چکر میں تو فیلڈ رپورٹر کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔ غیر مرئی مخلوق والی توقعات کا دباو اس کو اپنے علاقے میں کسی کا دوست نہیں رہنے دیتا۔ مختلف پارٹیوں کی صورت میں رپورٹر پر ادارے کی پالیسی کی وجہ سے کسی ایک فریق کی مبہم ہی سہی حمایت کا الزام لگ جاتا ھے، فریق مخالف سیدھا سیدھا دشمن بن جاتا ہے۔

اس کی مثال رحیم یار خان اور گھوٹکی کے لوکل جرنلسٹ اس طرح دیتے ہیں کہ پولیس کے موقف کو بیان کر دیا جاتا ہے لیکن کچے کے ڈکیت کراچی کے ڈیسک کو نہیں جانتے وہ تو مقامی سطح پر ہم سے واقف ہوتے ہیں۔ دھمکیاں ہمیں پڑتی ہیں۔

طالبان اور دیگر عسکریت پسند تنظیمیں ٖفاٹا کے صحافیوں کے خون کی پیاسی ہو جایا کرتی ہیں۔ بلوچستان میں اخبار کی تقسیم تک رک جاتی ہے۔ رپورٹر کی ایک قسم اور بھی ہے جے کوئی بھرتی نہیں کرتا، نا کوئی تنخواہ کا وعدہ ہوتا ہے، جس کا نمبر ضرورت کے وقت گھمایا جاتا ہے، علاقے کی سن گن لی جاتی ہے اور جھانسے میں رکھا جا تا ہے کہ اگلی بار اس کو بھی بھرتی کر لیا جائے گا۔ وہ غریب اسی وعدے کے آسرے پر علاقے کی ہر طاقت سے ٹکراتا اور رپورٹنگ کرتا رہتا ہے۔

لیکن جب اس پر کسی وڈیرے،پولیس، نامعلوم افراد کا وار ہو جاتا ہے تو بڑے ادارے، صحافی یا تو مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں یا روکھی سوکھی مذمت جاری کر دیتے ہیں۔

صحافیوں کے خلاف متحرک کون ہے؟ کون نہیں ہے؟ یہ تو جب معلوم ہو جب ان ادکھلی یا مکمل بند کیسز کی فائل سے کبھی کوئی نتیجہ برآمد ہوا ہو، حامد میر جیسے معروف صحافی اور اینکر پرسن ، جو ایک مضبوط ادارے سے وابستہ ہیں ان پر حملے کی تفتیش کہاں تک پہنچی ہے؟

مقامی صحافی کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

LEAVE A REPLY