ساگر بلوچ

مزری کے پتوں سے بنائی ہوئی چٹائیاں بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح پسنی کے عورتیں بھی خوب اچھی طرح سے بناتی ہے۔یہ ہنر بھی کسی مہارت سے کم نہیں ہے۔مزری کا پودا بلوچستان کے زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔اس کو مقامی زبان میں پیش کہا جاتا ہے۔

یہ قدیم ترین پیشوں میں سے ایک ہے۔اس شعبے کو خواتین کاشعبہ کہا جاۓ تو بھی غلط نہ ہوگا۔ چٹائی بنانے سے پہلے مزری کے پتوں کو خشک کرکے ان کے پتوں کو علیحدہ کیا جاتا ہے۔ پھر سارے پتوں کو پانی میں بھگو دیتے ہیں۔اور پھر پتوں کو کپڑے میں لپیٹ کر زمین سے چھوٹا گڈھا کھود کر اس کے اندر رکھ دیتے ہیں اس طرح 12 گھنٹے کے بعد مزری کے سارے پتے نرم ہو جانے سے عورتیں چٹائی بنانے کیلۓ اپنے زیر استعمال میں لاتے ہیں۔

مزری کی چٹائی مقامی عورتوں کی ایک قسم کا ذریعہ معاش بھی ہے۔ آج کل یہ شبعہ اور ہنر دونوں زوال کی طرف گامزن ہے۔ اکثر خواتین مقامی مارکیٹ میں مزری کی عدم موجودگی پر نالاں نظر آتی ہے۔ یہ شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے اور ان خواتین کی تعداد میں بھی کمی آرہی ہے۔ نئی نسل میں اس کو سیکھنے کیلئے کوئی رجحان نہیں پایا جاتا ہے۔ ماسی شر بی بی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں 30سال سے اس پیشے سے وابستہ ہوں پہلے اکثر خواتین کو بنانا آتی تھی لیکن اب اس کے برعکس ہے۔ اب ہمارے بیٹیوں کو سیکھنے کیلۓ کوئی دلچپسی نہیں ہے۔ اس نے مزید کہا کہ مزری کی عدم دستیابی کی صورت میں ہمارے پیشے کو بری طرح اثر پڑ رہا ہے۔

LEAVE A REPLY