عارف نور ، بادل بلوچ

پاک وائسز، گوادر

گوادر میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر صوبہ سندھ ،ڈسٹرکٹ لسبیلہ،اور مکران کے مختلف دیہاتوں سے بکرے،دنبے اور گائے قربانی کے لیے گوادر کی گلگ منڈی میں فروخت کے لیے لائے جاتے ہیں۔
گوادر کی منڈی میں بیوپاریوں کے لیے ایک آسانی ہے کہ انہیں کسی بھی محکمے،انتظامیہ کو کوئی بھی ٹیکس یا کرایہ نہیں دینا پڑتا۔جس بیوپاری کا دل جہاں چاہے وہ منڈی میں کسی بھی جگہ اپنے جانوروں کو باندھ کر فروخت کر سکتا ہے۔
اس کے باوجود گوادر پورٹ سٹی میں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ گوادر کی بکرا منڈی گلگ میں بکرے کی قیمت 20 ہزار سے60 ہزار تک ہے۔
گزشتہ سال کی نسبت اس سال گوادر کی منڈی میں قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ہم نے جانوروں کے بیوپاری محمد رحیم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ”گوادر میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گوادر کے آس پاس کے دیہاتوں میں ۔خشک سالی اور قحط کی وجہ سے بہت سے مال مویشی بھی مر گئے ہیں۔”
بکرے کی خریداری کے لیے آئے ہوئے خریدار محمد یونس نے بتایا کہ”گزشتہ سال کی نسبت اس سال بکرے کی قیمت بہت زیادہ ہے جو کہ ہماری پہنچ سے دور ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “باہر سے آئے ہوئے بیوپاری گوادر کے ہر رہنے والے کو زمیندار اور سیٹھ سمجھتے ہیں اس لیےبھی قیمتیں زیادہ کردی ہیں۔”
بلوچستان کی تحصیل حب کے علاقے وندر سے آئے ہوئے بیوپاری محمد علی نے پاک وائسز کو بتایا کہ”میں نے سندھ سے یہ جانور لائے ہیں بہت خرچہ کیا ہے کرایہ دیا ہے۔اس لیے قیمت زیادہ ہے۔”
گوادر کی تحصیل پسنی میں بھی قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ستر سالہ بزرگ وشدل صوبان نے پاک وائسز کو بتایا کہ وہ پچھلے 30 سالوں سے قربانی کا جانور پسنی منڈی سے خرید رہے ہیں لیکن اس بار جانور اتنے مہنگے ہیں کہ ان کے لیے خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: عارف نور اور بادل بلوچ پاک وائسز کے لیے گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY