صہیب اقبال
 رواں سال جنوبی پنجاب میں تیز اندھیوں اور موسمی حالات کے باعث آم کا پھل کافی  متاثرہوا ہے جس سے پیداوار کم ہونے کا خدشہ ہے۔ادھر باغبان نے حکومت سے سبسڈی دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
راجن پور کے باغبان ابرار بزدار نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  گزشتہ ایک  ماہ کے دوران تیز آندھیوں اور موسمی حالات  کے باعث  آم  کا پھل بیس فیصد گرگیا ہے۔ دراصل اس وقت آم کا پھل پکنے کے قریب ہے تیز ہوا اور شدید آندھی کے باعث  پھل  گر جاتا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو رواں سال آم کی پیداوار بیس سے تیس فیصد کم ہوگی جس سے مالی نقصان ہوگا۔
مظفرگڑھ کے باغبان مرزا اقبال نے کہا کہ رواں سال آم کے باغات موسمی حالات کے باعث شدید متاثر ہیں اس لیے حکومت باغبانوں کے مالی نقصان کم کرنے کے لیے سبسڈی دے۔
جنوبی پنجاب کا آم جسے مٹھاس کے باعث پھلوں کا  بادشاہ کہتے ہیں اپنے ذائقے کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے ۔ راجن پور ، ڈی جی خان ، لیہ ، مظفرگڑھ، ملتان ، خانیوال، لودھراں، وہاڑی ، بہاولپور میں آم کے باغات کافی تعداد میں موجود ہیں ، جنوبی پنجاب میں پیدا ہونے والے آم کی اقسام میں دوسیری ، مالٹا آم ، انورلٹور ، لنگڑا ، دیسی ، طوطا ، کاٹھا ، چونسا ، کالا چونسا وغیرہ شامل ہیں ۔ جنوبی پنجاب کا آم نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں برآمد ہوتا ہے۔
محکمہ زراعت کے اسٹنٹ ڈائریکٹر نوید عصمت نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں 50ہزار 165 ایکڑ رقبے پر آم کے باغات ہیں ۔ بہاولپور ڈویژن میں 74ہزار570 ایکڑ جبکہ ملتان ڈویژن میں ایک لاکھ 18 ہزار 460 ایکڑ رقبے پر آم کے باغات موجود ہیں ۔ ہرسال جنوبی پنجاب سے لاکھوں میٹرک ٹن آم پیدا ہوتا ہے ۔
زرعی ماہر فہیم گاڈی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر رواں سال آم کی پیداوار کم ہوئی تو  آم کی قیمت زیادہ ہوگی جس سے ہماری برآمد ات پر بھی اثر پڑے گا حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
رائیٹر کے بارے میں: صہیب اقبال پاک وائسز کے لیے جنوبی پنجاب سے بطور سٹی زن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY