قادربخش سنجرانی۔۔پنجگور

بلوچستان کے مکران ڈویژن میں پاور ایک ہفتے سے بریک ڈاؤن کی وجہ سے بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔۔

 مکران کے متاثرہ اضلاع میں تربت، پنجگور اور گوادر شامل ہیں جہاں گزشتہ ایک ہفتے سے بجلی کی طویل بندش کا سامنا ہے۔۔

بجلی بحران کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ بحرحال صورت حال جو بھی ہو کیسکو کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حوالے سے عوام کو آگاہ کرے کہ کن وجوہات کی وجہ سے بجلی بند ہے۔

پنجگور گیس ٹربائن پاور ہاوس جو متبادل کے طور موجود ہے اس سے متعلق بھی خاموشی ہے اگر ایران سے فنی خرابی کی وجہ سے بجلی معطل ہے تو پنجگور پاور ہاوس سے تو یہ کمی دور کی جاسکتی تھی لیکن اس پر بھی کام نہیں کیا گیا۔

تاہم رات دو بجے جب کیسکو کی مہربانی سے بجلی بحال کی جاتی ہے تو بجلی کی وولٹیج کھبی زیرو تو کھبی دو سو وولٹیج کو کراس کرتا ہے۔ اس دوران نہ کوئی بلب جل سکتا ہے اور نہ ہی پانی کے موٹر اور فریج چلتے ہیں۔ الٹا صارفین کو لینے کے دینے پڑجاتے ہیں ان کی قیمتی برقی آلات بے قابو وولٹیج سے جل کر ناکارہ ہورہے ہیں ۔

 شہریوں نے کیسکو سے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ان کا قصور کیا ہے اگر کسی جگہ پر کوئی فالٹ ہے تو یہ فالٹ کیا رات دو بجے سے لیکر صبح دس بجے تک خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے؟

 کیسکو کی جانب سے صرف ایک پریس ریلیز میں شہریوں سے معذرت کی گئی ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ معاملہ کب تک حل ہوجائے گا ۔

اس حوالے سے جب پاک وائسز نے کیسکو کے مقامی افسران سے رابطہ کیا اور ان سے مکران میں بجلی کے بحران کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تو ان کی طرف سے اس بابت لاعملی کا اظہار کیا گیا اور وہ کچھ بتانے سے قاصر رہے

پاک وائسز نے پنجگور کے شہری عبدالوحید سے بجلی بحران پر بات کی تو ان کہنا تھا “ہمیں تعجب ہے کہ ملک کے اہم مکران ڈویژن جہاں پورٹ اور سی پیک کا بڑا زرووشور سے چرچا ہےوہاں بجلی کی یہ صورتحال ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اس شدید گرمی میں اگر بجلی اسی طرح بند رہی اور پانی پہلے ہی نہیں مل رہا تو یہاں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ کیونکہ پانی نہ صرف نایاب ہوچکا ہے بلکہ گرم پانی کے استعمال سے پیٹ اور دیگر موزی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔”

LEAVE A REPLY