سلیمان ہاشم
پاک وائسز، گوادر
مکران ڈویژن میں 114 اقسام کی کجھوریں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے ذائقے کے اعتبار سے منفرد ہیں۔
پی سی ہوٹل گوادر میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے) کے زیر اہتمام گزشتہ ہفتے اتوار کو کھجوروں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا جس میں مقامی کاشکاروں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔
ایک اندازے کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں 114 اقسام کی کھجوریں پیدا ہوتی ہیں۔ کم وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود مکران کے کاشتکار اور زمیندار اچھی کوالٹی کے کھجور کی پیداوار کے لیے کوشاں ہیں۔
  حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مکران میں سالانہ 127میٹرک ٹن کھجوریں پیدا کی جا رہی ہے۔ پاکستان سالانہ 100ملین ڈالر کے کھجور امریکہ ، جرمنی اور فرانس کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔
مقامی کاشتکاروں کو امید ہے کہ گوادر پورٹ فنکشنل ہونے سے اب ان کی کجھوروں کی دوسرے ممالک برآمد میں بھی آسانی ہوگی۔
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی  مقامی کاشتکاروں و زمینداروں کو کجھور کی پیداوار سے لے کر مارکیٹنگ تک ہر قسم کی مدد فراہم کر رہا ہے۔
گوادر میں ایک روزہ کھجور میلہ میں مکران ڈویژن کے کاشتکاروں اور زمینداروں نے مختلف کھجوروں کے اسٹال لگائے۔ نمائش میں آنے والے مہمانوں نے کھجور کھا کر اس کے ذائقہ چیک کیا۔
بہترین ذائقہ ہونے کے باوجود مقامی کجھوروں کی برآمد انتہائی کم ہے۔
 نمائش میں کھجور سے تیار کی جانے والی چاکلیٹ، شیرہ اور دیگر آیٹم بھی رکھے گئے تھے۔
نمائش کا ایک مقصد مقامی کاشتکاروں کو  جدید مشینری اور بہترین پیکنک سے کجھور کی کوالٹی کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہے اور انٹرنیشنل مارکیٹ کواپنی جانب متوجہ کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل کے ڈاکٹر محمد عباس ابڈو اور سائنٹسٹ فاروق خان نے کہا کہ کھجور وں کو صاف ستھرا اور خشک کرنے کے جدید طریقے آزمانے کی ضرورت ہے اورانہوں نے کاشتکاروں کو اس سلسلے میں کافی آگاہی فراہم کی۔
کھجوروں کی ایک نمائش 25اگست کو کراچی میں میں منعقد ہوگی جس میں مکران کے کجھور سرمایہ کاروں کو متعاف کرائے جائیں گے۔
رائیٹر کے بارے میں: سلیمان ہاشم پاک وائسز کے لیے گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY