بادل بلوچ 
پسنی 
بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بڑھتی آبی آلودگی کے باعث مچھلیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مکران کی ساحلی پٹی پر سمندر کا صاف و شفاف پانی مچھلیاں کے لیے انتہائی ساز گار ماحول فراہم کرتا ہے۔ مگر کچھ عرصے سے آبی آلودگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو مچھلیوں کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔آبی آلودگی کے باعث مچھلیاں یا تو مر رہی ہیں یا پھر ساحلی پٹی کے پانی سے کہیں دور جا رہی ہیں۔
آبی آلودگی میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ سمندری راستوں سے ڈیزل کی اسمگلنگ بتائی جاتی ہے۔ یہ ڈیزل ہمسایہ ملک ایران سے براستہ جیونی کے ساحل سے بلوچستان پہنچایا جاتا ہے جہاں سے مختلف گاڑیوں کے ذریعے اسے کراچی منتقل کیا جاتا ہے۔
اکثر مچھلیاں ساحلی پٹی کے پانی میں ایران سے اسمگل ہونے والا ڈیزل گرنے کے باعث ہلاک ہو رہی ہیں۔
 ڈیزل سے لدے جہازوں کی نقل و حرکت کے دوران کافی ڈیزل سمندر میں گرتا ہے جسکی وجہ سے سمندری آلودگی جنم لیتی ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے مکران کے ساحل پر روزانہ مردہ مچھلیاں پائی جاتی ہیں. مکران کے ساحلی شہر جیونی, پیشکان اور گنز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
پسنی شہر کا کچرا بھی ساحل سمندر پر پھینک دیا جاتا ہے جس سے مچھلیاں کو خطرہ ہے۔
 اس کے علاوہ پسنی شہر کا کوڑا بھی ساحل پر پھینک دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف ساحل کی خوبصورتی متاثر ہورہی ہے  بلکہ یہ گندگی پھر سے ہوا کے ذریعے سمندر میں مل جاتی ہے جو زندہ مچھلیوں کے لیے زہر سے کم نہیں۔ آبی آلودگی کے باعث مچھلیاں مختلف مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہی ہیں۔
 ماہی گیری سے وابستہ تاجر امین داد نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آبی آلودگی کے باعث کچھ عرصے سے مچھلی کا کاروبار بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے پسنی سے ماہانہ تقریبا مچھلی کے 50 کنٹینر کراچی بھیجے جاتے تھے  مگر اب یہ تعداد کم ہو کر30 کنٹینر رہ گئی ہے۔
پلاسٹک بیگ اور بوتلیں بھی ساحل سمندر میں پھینکے جانے والے کچرے کے ڈھیر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
آبی آلودگی کے اثرات جاننے کے لیے پاک وائسز نے مختلف لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے۔ 28 سال سے ماہی گیری سے وابستہ 63 سالہ ناخدا لال بخش نے کہا کہ “پہلے ہم اتنی مچھلی پکڑتے تھے کہ خشک علاقے کے لوگوں کو ہم مفت کھانے کی مچھلی بھیجتے تھے مگر آبی آلودگی سے مچھلی اس حد تک کم ہوگئی ہے کہ ماہی گیروں کے گھروں میں بھی
“آجکل مچھلی کھانے کو نہیں ملتی۔
ماہرین کے مطابق اگر آبی آلودگی پر فورا قابو نہ پایا گیا تو مچھلیاں ساحلی پٹی سے دور چلی جائیں گی۔
دو کشتیوں کے مالک رزاق عباس نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تک جس کے پاس ایک بھی کشتی ہوتی ، اسکو لوگ سیٹھ کہتے تھے مگر مچھلی نہ ہونے کے باعث کشتی کی مانگ میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔  “آجکل سستے داموں میں بھی کوئی کشتی لینے کو تیار نہیں۔
آبی آلودگی کے باعث جنم لینے والے مسائل سے ماہی گیروں کی فریاد لیکر جب ہم نے اسسٹنٹ ڈاہریکٹر فشریز پسنی نیاز احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ آبی آلودگی مکران کی ساحلی پٹی کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے  وہ کوششیں کررہے ہیں. اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے بھی رابطے میں ہیں کہ وہ  اس مسئلے کو سنجیدگی سے
لے اور صوبائی حکومت کی مدد کرے۔
رائیٹر کے بارے میں: بادل بلوچ پسنی سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY