[urdu]

مکران پہلی بار میں نے سترہ برس پہلے دیکھا کیونکہ وہاں مارچ انیس سو اٹھانوے میں شدید بارشوں کے سبب دشت ، کیچ اور نہنگ دریا بپھر گئے تھے ۔سو سے زائد دیہاتوں میں لگ بھگ چار ہزار گھر منہدم  اور آٹھ ہزار نیم منہدم ہوئے۔ تقریباً اٹھارہ سو انسان مرگئے یا بہہ گئے۔ بیس ہزار سے زائد مویشی ختم ہوگئے۔ پچاس ہزار ایکٹر فصلیں برباد  اور دو لاکھ سے زائد مقامیوں  کی اجیرن زندگی اور ویران ہوگئی۔ میں اس تباہی کے لگ بھگ ایک ماہ بعد علاقے میں پہنچا۔ چند یادیں آج بھی دماغ میں تمام رنگوں سمیت تصویر ہیں۔

wusatمثلاً  کیچ کے قریب ایک گاؤں میں آدھے گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ میں کچھ متاثرین سے باتیں کر رہا تھا کہ ایک آئس کریم والا سائیکل سوار کہیں سے نمودار ہوا اور بچوں نے اسے گھیر لیا۔ کچھ بچوں کے پاس پیسے تھے تو انہوں نے آئس کریم خرید لی۔ باقیوں کے پاس حسرت بھری آنکھیں تھیں۔

میں نے ایک حسرتی بچے سے کہا جاؤ آئس کریم لے لو۔ اس نے بلوچی میں کچھ کہا۔ میرے مقامی ڈرائیور منیر نے بتایا کہ یہ بچہ کہہ رہا ہے میں اکیلا آئس کریم نہیں کھاؤں گا باقی بچوں کو بھی دلاؤ۔ میں نے بٹوے سے سو روپے نکالے اور کہا جاؤ سب کے لئے لے لو۔ یہ بچہ  پھر کچھ بڑبڑایا۔ منیر نے بتایا کہ اب یہ کہہ رہا ہے کہ میں پیسے نہیں لوں گا تم خود خرید کے دو۔ چنانچہ میں نے آئس کریم والے کو پیسے دے دئیے۔ اس بچے نے آئس کریم لیتے ہوئے پھر کچھ کہا۔ منیر نے بتایا اب یہ کہہ رہا ہے کہ تم نے آئس کریم دلائی ہے اس لئے  تھوڑی سی کھاؤ۔ میں نے اسی بچے کی آئس کریم سے ایک بائٹ لی اور پھر وہ اطمینان سے ملبے پر اکڑوں بیٹھ کے آئس کریم میں مگن ہوگیا ۔

(فروری دو ہزار چودہ میں ایک نوجوان کراچی آرٹس کونسل کی کسی تقریب میں مجھ سے بڑے تپاک سے ملا۔ اس نے بتایا کہ میں ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس فرسٹ ائیر میں ہوں۔ میں وہی بچہ ہوں جسے آپ نے آئس کریم دلائی تھی۔۔۔)

دشت میں  کچے ٹریک پر سفر کرتے ہوئے میں نے دیکھا بہت سے مرد ، عورتیں اور بچے ایک سوکھے نالے کے کنارے ساز و سامان سمیت کھڑی چارپائیوں پر چادریں تانے بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوا  کہ سیلاب کے بعد سے وہ یہیں ہیں حالانکہ گاؤں بالکل سامنے ہے۔

کہانی یہ تھی کہ جنوں نے انہیں پتھراؤ کرکے نکال دیا تھا۔ سیلاب آنے پر جب یہ لوگ افراتفری میں گاؤں سے بھاگ رہے تھے تو کسی جن کا کوئی بچہ ایک مقامی کے ٹریکٹر تلے کچلا گیا۔ اور پھر ایک عورت کو اس جن نے معمول بنا کر گاؤں والوں کو مردانہ آواز میں دھمکی دی کہ اب اپنے گھروں کا رخ نہ کرنا ورنہ مار ڈالیں گے۔

ایک متاثر نے بتایا کہ جب بھی ہم میں سے کوئی گاؤں کی حدود میں جاتا ہے تو پتھراؤ شروع ہوجاتا ہے۔ ہم نے کئی مقامی اور سرحد پار ایرانی عاملوں سے یہ جن قابو کرنے کے لئے رابطہ کیا ہے لیکن ان کی فیس ہماری اوقات سے باہر ہے۔ چنانچہ ہماری درخواست حکومتِ بلوچستان تک پہنچا دیں کہ جن بھگانے کی فیس کے لئے مدد کرے۔

میں نے پوچھا  کیا میں گاؤں تک جا سکتا ہوں ؟ کہنے لگا بالکل ! کیونکہ آپ مہمان ہیں ، جن شائد آپ کو تنگ نہ کریں۔ چنانچہ میں نے ڈرائیور منیر کو ساتھ لیا اور ہم دونوں پیدل اس گاؤں میں گئے۔ گھروں کے پٹ کھلے تھے۔ گلیوں میں سیاہ پتھر ایسے بکھرے  تھے جیسے ابھی ابھی کوئی احتجاجی جلوس گذرا ہو۔ منیر نے بتایا کہ یہ پتھر اس علاقے میں نہیں پائے جاتے۔ ایک گھر میں داخل ہونے پر دیکھا کہ کمرے کے دو کواڑوں میں سے ایک کوئلے کی طرح جلا ہوا ہے اور دوسرا پٹ بالکل سلامت۔ کمرے کی آدھی چھت کوئلہ بن چکی تھی اور آدھی بالکل بھلی چنگی۔ لگتا تھا کسی نے فٹے سے سیدھی لکیر کھینچ کر چھت کا ایک حصہ جلا دیا۔

وہاں سے میں گوادر پہنچا جہاں ڈی سی آفس کے باہر وڈیرہ علی اکبر رند سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق دشت سے تھا۔ میں نے ساری کہانی سنائی تو کہنے لگے یہاں کے لوگ ایسے واقعات کے عادی ہیں۔ آپ کو شائد معلوم ہو کہ جنات ویران اور اندھیری جگہیں پسند کرتے ہیں۔ دشت جیسے اندھیر علاقوں میں جن نہ بسیں تو اور کہاں بسیں۔

اس کے بعد سے اب تک میں سات مرتبہ مکران جا چکا ہوں۔ ہر بار لگتا ہے جیسے ہر شے جوں  کی توں  ہے مگر جنات بدل گئے ہیں۔

ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتے

شہر خاموش ہیں شوریدہ سروں کے ہوتے

اس نے اک بات کہی ہے جو سنیں شوق زدہ

چل کے اب آئیو پاؤں پے سروں کے ہوتے

( جون ایلیا )

[/urdu]

LEAVE A REPLY