دھرمیندرکماربالاچ

ہندو دھرم کے مطابق ستی بھگوان شنکر مہادیو ( Shiva Lard )کی بیوی تھی ۔بھولے ناتھ زیادہ تر عبادت میں منگن رہتے تھے ۔ایک بارستی کے والد راج دکش پرجاپتی ایک محفل میں آتے ہیں تو تمام دیوتا ان کا استقبال کرتے ہیں مگرمہادیوعبادت میں مگن تھے تو اُٹھ کراپنے سسر کا استقبال نہ کرسکے۔اس پر ستی کے والد اپنے داماد پر سخت ناراض ہوئے ااور ان کر سبق سیکھانے کے لیے تمام دیوتاؤں کو اپنے گھریگیہ (بڑی عبادت)پر مدعو کیا لیکن بھولے ناتھ اور اپنی بیٹی ستی کو دعوت نامہ نہیں بھیجا۔تاکہ دیوتاؤں کو پتاچلے کہ جس نے میری عزت نہیں کی آج وہ اس سبھا(محفل )کے لائق نہیں رہا۔جب ستی کو پتاچلاتو مہادیوسے اجازت لیکر وہاں پہنچی اس کے باپ دکش پرجاپتی نے بھولے ناتھ کے خلاف کئی باتیں کیں مگر ستی نے کہاکہ پتاجی !آپ ان کو بھی بلوائیں تاکہ یہ شبھ کام پوراہوسکے ۔لیکن باپ نے اپنی ضدپراڑارہااور بھولے ناتھ کے خلاف باتیں کرتارہا ۔

ستی سے اپنے بھگوان کااپمان اورنندا(برائی )برداشت نہ کرسکی۔ تبھی ستی نے جوش میں آکر “ہون یگیہ ”کے کنڈمیں(دہکتی آگ )میں چھلانگ لگاتے ہوئے کہنے لگی اے خدا(پرماتما)جس پتی کے لیے میں اپنی جان دے رہی ہو ں میں دوسرے جنم میں بھی اُسی کی اردھ انگنی (بیوی)بنوں۔جب یہ خبربھگوان شنکر تک پہنچی تو اپنی بیوی ستی کے اسطر ح جداہونے کی وجہ سے دکھ میں رونے لگے ۔اور کہنے لگے یہ سب میری وجہ سے ہواہے اگر میں اُس دن اپنے سسر کا استقبال کرتوآج یہ دن دیکھنے کونہ ملتا۔اور ستی کے غم میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے کہ یہ سب میری وجہ سے ہواہے جہاں جہاں ان کے آنسوؤں کے قطرے گرتے گئے وہاں گہرے تالاب بن گئے۔جس کا ایک قطرچکوال کے قریب کٹاس میں بھی گیرا ۔جہاں پر آج کٹاس راج شو مندرواقع ہے ہرسال ہزاروں یاتری اپنے من کی خواہشیں پوری کرنے کے لیے آتے ہیں۔

ماتاستی نے جب دوبارہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں دیوی پاروتی کے روپ میں جنم لیااور بھگوان شوکوپانے کے لیے سخت ریاضت کرنے لگی ۔جس دن شوجی اور ماتاپاروتی کی شادی ہوئی اُس دن کو” مہاشِوراتری “کہاجاتاہے۔
مہاشوراتری ؛ مہاشوراتری (شِیوجی کی بڑی رات )کاتہوار بکرمی کیلنڈر کے مطابق ہرسال ماگھ یا پھاگن کے مہینے میں کرشناپکش کے تیرہویں رات اورچودہویں دان کو انتہائی عقیدت و احترام سے مناجاتاہے ۔کرشناپکش سنسکرت کالفظ ہے جس کامطلب ایساوقت جب چاند ذرادھندلاپڑ جائے ۔انگریزی تاریخ کے مطابق فروری اور مارچ میں مہاشیوراتری منائی جاتی ہے۔اس تہوار میں بِلوا(بیل)نامی درخت کے پتیوں کے چڑھاوے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے پاکستان میں یہ درخت کراچی میں دیکھنے کو ملتاہے ۔
مہاشوراتری کی پوجا؛

مہاشیوراتری کے دن شِوبھگت صبح سویرے اٹھ کر گنگا اشنان کرتے ہیں، اور نئے کپڑے پہن کر قریبی شِومندرمیں جاکرشولنگ پر دودھ ،شہد، گھی ،گنگاجل،بیل پتر اور بھبھوتی (پاک راکھ )کا چڑھاور کرتے ہیں۔ ساری رات اورسارا دن شِوبھگت اپناوقت شِوجی کی حلاتِ زندگی کی کتھا سننے، شِوپوجااور آرادھناکرتے رہتے ہیں۔رات کے چارپہریعنی ہر تین گھنٹے بعد پنڈت اور براہمن شِولنگ کا ابھیشک کرتے ہیں،پہلے پہرشِولنگ پر دودھ ،دوسرے پہر دہی،تیسرے پہر شہداور چوتھے پہر اصلی گھی چڑھاکرشےِولنگ کا ابھیشک کیاجاتاہے ،ابھیشک کے ساتھ شِوبھگت ”اوم نموشِوائے”منترکا جاپ کرتے ہیں۔ا س منتر کے جاپ سے ایسے طاقت پیداہوتی ہے جو ہرطرح کے شیطانی اثرات دور کرکے انسان کو طاقتور بنادیتی ہے ،منتر کے جاپ سے شریر میں ایسی تحریک پیداہوتی ہے جس سے انسان پر لاعلمی کا پردا اُٹھاجاتاہے ۔

اس جاپ سے ایسی آگ پیداہوتی ہے جوہر گندگی کو جلاکر شریرکو پاک کردیتی ہے ،اس منتر کا جاپ کرنے سے ایسی بیماریوں سے بھی شفاء مل جاتی ہے جن کا ڈاکٹروں اور حکیموں پاس علاج نہیں،شِوراتری کوشِوکی سب سے پسندیدہ رات کہاگیاہے ۔اس رات آرتی ،بھجن کیرتن ،جاگرن(جاگنا) اور کتھا(حلاتِ زندگی )سے بھگوان شیوکی شفقت حاصل ہو تی ہے اور بھگوان شیواپنے بھگتوں کے تمام گناہوں کو معاف کرکے موکش(آخرت میں نجات)دیتے ہیں۔

ہندو ازم میں شیوراتری ورت کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ماتاپاروتی جو کہ سہاگ بخشنے والی دیوی ہے ۔ شِوراتری کے شبھ موقع پرشادی شدہ عورتیں کی اپنے پتی کی لمبی عمراور خوشحالی کی دعاکرتی ہیں اور کنواری لڑکیاں من چاہا اور نیک سیرت پتی کی خواہش کرتی ہیں ۔

آج رحیم یارخان،صادق آباد،بهونگ شریف اور بهیل نگر کے علاوہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں ہندودھرم کے پیروکارمہاشیوراتری کا تہوار منائے گی اور اپنی بھگوان شیوجی اور ماتاپاروتی کی آرتی اور بھجن گاکران کو خراجِ عقیدت پیش کر تے ہیں اور اپنی زندگی کے تمام دکھ درد سے نجات اور خوشحالی کے لیے پراتھناکرتے ہیں۔پاکستان میں ہندوبراری اپنے ملک وملت کی تعمیروترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعاکرے گی۔

LEAVE A REPLY