یلان زامرانی

گوادر تاسوراب بننے والی اہم شاہراہ ایم 8ایک اہم قومی شاہراہ ہے جسے سی پیک کی کامیابی کیلئے نہایت اہم سمجھا جاتاہے لیکن اس روڈ پر واقع ایک اہم پل جوکہ کیچ کے قریب ڈی بلوچ پل کے نام سے جانا جاتاہے اس وقت نہایت ہی ٹوٹ پھوٹ کاشکارہے. اس پل کی تعمیر سابق فوجی جنرل پرویز مشرف دور میں 2003اور 2004میں ہوا لیکن پھر 2013کے الیکشن کے بعد نواز شریف ک دور حکومت میں دوبارہ اس پل کا کام شروع ہوا اور اس پل کی تعمیر کی گئی جہاں سے یہ پل گوادر سے آنے والے سی پیک روڈ کو تربت اور پھر پنجگور و سوراب اور کوئٹہ تک ملاتی ہے

لیکن مارچ 2019 میں ہونے والے بارشوں کے بعد یہ پل ڈمیج ہوتا گیا اور اب اس میں بڑی بڑی دراڈیں پڑی ہیں جوکہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کاسبب بن سکتے ہیں. اسی حوالے سے جب ہم نے کیچ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سماجی کارکن عبدالماجد بلوچ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ یہ پل ایک مین شاہراہ پر واقع ہے جوکہ ایم-8 روڈ کہلاتی ہے جو گوادر سے سوراب جاتی ہے اور پھر دیگر علاقوں تک ایک اہم شاہراہ ہونے کے باوجود اس پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے توجہ نہیں دی تو پھر کسی بھی وقت یہاں بہت بڑا سانحہ رونما ہوسکتا ہے لہذا اعلی حکام اور نیشنل ہاؤئی وے اتھارٹی کو چاہیے کہ وہ اس جانب توجہ دے تاکہ یہاں آئے روز ہونے والے حادثات کی روک تھام ہوسکے.اگر ایسے پلوں پر توجہ نہیں دی گئی اور یہاں کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو اسکا زمہ دار نینشل ہاوئی اتھارٹی کے حکام ہونگے کیونکہ وہ ان چیزوں کو نظر انداز کرتے ہیں

کیچ سول سوسائٹی کے کنوینیئر عومر ھوت کےمطابق انہوں نے اس حوالے سے نیشنل ہائی وے اتھارٹیز کے حکام کو ایم 8شاہراہ گوادر ٹو پنجگور میں واقع اس پل کے بارے میں پہلے ہم کئی بار یاد دہانی کراچکے ہیں لیکن اسکے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں جوکہ بہت تشویشناک ہے

ایک راہگیر احسان احمد کاکہناتھا کہ یہ پل اب ناقابل سفر بن چکاہے لہذا حکومت کوچاہیے کہ وہ اس پل اور اس جیسے دیگر پلوں پر توجہ دے اور جلد انکی تعمیر شروع کرے تاکہ مسافروں کے مشکلات کم ہوسکیں. یادرہیکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیجانب جب اس روڈ پر کام جاری تھا تو اس وقت تربت میں انکا دفتر موجود تھا لیکن کام ختم ہوتے ہی نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اپنا دفتر تربت سے کوئٹہ منتقل کردیا

LEAVE A REPLY