نظام سموں

پاک وائسز،تھرپارکر 

 سندھ میں بلدیات نظام کو آئے سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے لیکن آج تک بہت سے اضلاع میں بلدیاتی سیٹ اپ پوری طرح سے کام نہیں کر رہا۔ضلع تھرپاکر میں کہی یونین سیکرٹری مقرر نہیں ہو سکا تو کہی یونین کونسل کا دفتر ہی موجود نہیں ہے۔اس طرح

تھرپارکر:مٹھی کی یونین کونسل کے دفتر کا ایک منظر۔فوٹو:نظام سموں

کے انتظامی مسائل کی وجہ سے ضلع بھر کے عوام کو ضروری دستاویزات کی تصدیق کے لیے پریشانی کا سامنا ہے۔

 تھرپارکر کی 37 یونین کونسلیں اضافی چارج والے 12 سیکرٹریوں سے کام چلا رہی ہیں جس کے باعث ضلع کے عوام کو دستاویزات کی تصدیق کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان یونین کونسل کے تمام مکینوں کو قومی سناختی کارڈ ، بے فارم ، رہائشی سرٹیفکیٹ، ڈومیسائل ،ڈیتھ سرٹیفکیٹ ۔میئریج سرٹیفکیٹ سمیت یونین کے تمام کام کرانے کے لیے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈسڑکٹ کونسل تھرپارکر کی رپورٹ کے مطابق ضلع تھرپارکر کے 64 یونین کونسلوں میں سے 62یونین کونسل پر صرف 27 یونین سیکریٹری مقرر جبکہ ان میں سے 12  سیکریٹریز کو مختلف تحصیل کی ایک سے لیکر آٹھ تک یونین کونسل کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک سال گزرنے کے باوجود ضلع کی اکثر یونین کونسلوں کے دفاتر ہی دستیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

چئیر مین ضلع کونسل غلام حیدر سمیجو نے پاک وائسز کو بتایا کہ متعدد یونین کونسلیں درختوں کی چھائوں میں کام کر رہی ہیں جبکہ متعدد کے چیئرمین ،وائس چئیرمین اور کونسلرز کو بیٹھنےکے لئے تاحال جگہ ہی نہیں مل سکی ہے۔انہوں نے مزید کہا

تھرپاکرکر:مٹھی کی یونین کونسل کی بلڈنگ۔فوٹو:نظام سموں

کہ اس کے نتیجے میں عوامی نمائندے اور عوام دونوں ہی دربدر ہو رہے ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیکریٹری آفیس نہیں آتے جس کی وجہ سے ہمیں تمام دستاویز تصدیق کرانے کے لیے یونین کونسلوں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام یونین کونسلوں میں سیکرٹری اور دیگر عملہ مقرر کیا جائے تاکہ انہیں دستاویزات کی تصدیق کے لیے مشکل پیش نہ آئے۔

مجموعی طور پر 30 یونین کونسلوں کے لیے سرکاری عمارت بھی نہیں ہے۔

مصنف کا تعارف:نظام سموں پاک وائسز کے لیے تھرپارکر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ

LEAVE A REPLY