قادر بخش سنجرانی

پچھلے سال کی طرح اس سال بھی مکران میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے جس کی وجہ سے لوگ شدید گرمی میں آرام کرنے کی بجائے سڑکوں پرآکر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں.
مکران جہاں ایران سے بجلی فراہم کیا جاتاہے نامعلوم وجوہات کی بنا پر مکران کے تینوں اضلاع گوادر، پنجگور اور کیچ میں بجلی کے وولٹیج میں کمی کے ساتھ ساتھ 18 گھنٹہ طویل لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس سے لوگوں کے معمولات  شدید متاثر کاروبار ختم ہوکر رہ گیا ہے مکران میں بجلی کے بحران سے پانی نایاب ہوچکا ہے جس سے اسپتال، اسکول، مساجد بھی متاثر ہوچکے ہیں اور موجودہ صورت حال سے  ہر مکتبہ فکر پریشان ہے.
کاروباری افراد کے ساتھ طلباء جن میں اسکولوں کے بچے  بھی شامل ہیں احتجاج کا علم بلند کیئے ہوئے ہیں پنجگور کی مصروف شاہراہوں پر مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اسکول کے بچوں کے مطابق بجلی کی بندش سے ان کا تعلیم شدید متاثر ہوچکا ہے 44 سینٹی گریڈ ڈگری میں کسی کمرے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے البتہ زندگی سے بیزار افراد ضرور موت کے پروانہ کو اپنی سے دیکھ سکتے ہیِں طلباء کا کہنا ہے کہ گھروں میں بھی ہوم ورک بجلی کے بغیر ممکن نہیں ہے کیسکو مکران کے عوام کو کیوں اور کس وجہ سے سزادے رہی ہے ابھی تک ان کا یہ عمل نامعلوم ہے.
دریں اثنا شہری ایکشن کمیٹی اور تاجران کمیٹی کے زمہ داروں نے بھی ڈپٹی کمشنر مسعود رند اور ایس ڈی او واپڈا حبیب الرحمن بلوچ سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے انھیں آگاہ کیا اور کہا کہ جب بھی گرمیوں کا سیزن شروع ہوتا ہے مکران میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھاکر وولٹیج انتہاہی کم رکھا جاتا ہے جس سے بجلی برائے نام کا رہ جاتا ہے اس سے نہ پانی کے موٹر چلتے ہیں اور نہ ہی روشنی کا بندوبست ہوتا ہے ایک حد تک بجلی برائے نام رہ جاتا ہے شہری ایکشن کمیٹی اور تاجران کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ایک ہفتے تک بجلی کا مسلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوا تو شہر بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا جس کی تمام تر زمہ داری کیسکو پر عائد ہوگی

LEAVE A REPLY