رفیق چاکر

پاک وائسز، پنجگور

لائبریری کے قیام کے لیے بلڈنگ تو تعمیر کر دی گئی لیکن کتابیں وغیرہ فراہم نہیں کی گئیں۔
2003 میں بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گرمکان میں 50 لاکھ روپے کی لاگت سےایک لائبریری کے قیام کے لیے کام کا آغاز کیا گیا لیکن 15سال گزرنے کے باوجود لائبریری کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ 
 
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع پنجگور میں 35  پبلک لائبریریز ہیں لیکن ان میں سے اکثر کی حالت خراب ہے۔ کہی کتابیں کم ہیں تو کہی ان کا سرے سے نام و نشان ہی نہیں ہے۔ 
 
پنجگور سے تعلق رکھنے والے ایم فل کے ایک اسکالر امان گچکی نے پاک وائس سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں “ریسرچ کیلئے کیچ کوئٹہ یا کراچی جانا پڑتا ہے جو ہر کوئی مالی طور پر برداشت نہیں کرسکتا۔
انہوں نے مزید کہ کہ “اسکالر گھر سے اتنی دور جانے کے لیے  ٹرانسپورٹ اور رہائش کے بندوبست کے چکر میں ایسا پھنستا ہے کہ ریسرچ اسے بھول ہی جاتی ہے۔”
 
 بلوچستان کے نامور آرٹسٹ اور علاقے کا رہائشی حفیظ گوہر جی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لائبریری کتابوں اور علم کا مرکز بننے کے بجائے  منشیات کا ایک اڈہ بن چکی ہے اور شام کے وقت علاقے کے منشیات کے عادی افراد اسی بلڈنگ میں پائے جاتے ہیں۔
 
علاقے کے ایک استاد مقبول احمد بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں لائبریری نہ ہونے کے باعث ان کے طلبا کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبا کو ریسرچ کے لیے متعلقہ مواد اور کتابیں پنجگور کی دیگر لائبریریوں سے بھی نہیں ملتی تو وہ کراچی یا کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں۔ 
 
 
محکمہ بلڈنگ اینڈ ریپئرنگ کے ایکسین نذیر احمد بلوچ نے  پاک وائسز سے گفت گو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ان کے محکمہ کے افسران نے لائبریری کی بلڈنگ کے فنڈز میں خرد برد کیا گیا ہے جس کی محکمہ انکوائری کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب 10لاکھ کے فنڈ سے لائبریری کو جلد فنکشنل بنایا جائے گا۔ 
رائیٹر کے بارے میں: رفیق چاکر پنجگور سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY