نذر عباس

پاک وائسز، رحیم یار خان

رحیم یار خان:شیخ زید اسپتال کے کڈنی سینٹر میں زیر علاج مریض۔فوٹو۔ نذر عباس

 رحیم یار خان کے شیخ زید اسپتال کے کڈنی سینٹر کے انچارچ ڈاکٹر عابد حسین کے مطابق شہر میں گردوں کے مرض میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گردوں کے مرض میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ پینے کا صاف پانی نہ ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں مجموعی طور پر گردوں کی بیماری میں پچھلے سال کی نسبت 6 فیصد اضافہ ہو ا ہے۔

:سات سالوں میں چار گنااضافہ

  شیخ زید ہسپتال میں 2015میں 13000مریض رپورٹ ہوئے ہیں اور 2016میں یہ تعداد بڑھ کر 16000تک پہنچ گئی جبکہ اسپتال کے ڈیٹا کے مطابق 2009میں 3600 گردوں کے مریض رپوٹ ہوئے تھے۔یعنی رحیم یار خان میں سات سالوں کے دوران گردے کے مرض میں چار گنا اضافہ جبکہ 2015سے 2016میں یہ بڑھ کر 23فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔

:شیخ زیداسپتال:گردے کے مریضوں کی لائف لائن

شیخ زید ہسپتال میں ایمرجنسی گرودں کا وارڈ ہے اس کے علاوہ کوئی گردوں کا کوئی وارڈ نہیں جہاں مریض کا فری طور پر علاج کرکے منتقل کیا جا سکے اور 2009میں شیخ زید کا گردوں کے امراض کے لیے بجٹ ایک کروڑ روپے تھا جسے بڑھا کر 2کروڑ کر دیا گیا۔

رحیم یار خان: شیخ زید اسپتال کے ڈاکٹر گردے کے مریض کا معائنہ کرتے ہوئے۔ فوٹو: نذر عباس

تاہم یہ بجٹ بڑھتے ہوئے مرض کے مقابلے میں بہت کم ہے شیخ زید ہسپتال میں نہ صرف رحیم یار خان سے مریض رپورٹ ہوتے ہیں بلکہ سندھ اور بلوجستاں سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں اور بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہسپتال میں سہولیات نہ کافی ہونے کی وجہ سے مریضوں کو لاہور اور کراچی کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

  ڈاکڑ عابد حسین نے گردوں کے مرض میں اضافے کو وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیماری شوگر،بلڈ پریشر ،گردوں کی پتھری , درد کی میڈیسن کے استعمال اور پنیے کا صاف پانی مہیا نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرغن غذائیں بھی گردوں کی مرض کا سبب بن رہی ہیں۔

ڈاکٹر حسین نے کہا کہ اگر حکومت ضلعی سطح پر ہسپتالوں میں گڈنی سنڑ بنا دے تو گردوں کی بیماری کو کافی حد تک کنڑول کیا جا سکتا ہے۔

 شیخ زید اسپتال کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق رحیم یار خان کے علاوہ راجن بہاولپور اور ملتان میں بھی گرودں کا مرض خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔

LEAVE A REPLY