پچھلے ویک اینڈ پر ایک تقریب میں اچانک لگ بھگ اٹھارہ برس بعد ارشد سے ملاقات ہوگئی ۔ارشد میرا یونیورسٹی کلاس فیلو ۔ خوشی ہوئی کہ پڑھائی میں جو کلاس میں جو لڑکا بیک بنچر تھا آج تیس برس بعد وہ صنعت کاروں کی نئی ہائی ٹیک نسل کی سب سے اگلی بنچ پر ہے۔ بیسیوں باتیں ہوئیں لیکن ظاہر ہے کہ سب تو نہیں بتائی جاسکتیں ۔ مگر میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ارشد سے بلوچستان کے صنعتی امکانات پر کیا گفتگو ہوئی ۔ اس سے آپ کو آج کے صنعت کار کے مائنڈ سیٹ کا تھوڑا بہت اندازہ ہو سکتا ہے۔

میں نے ارشد سے پوچھا کہ بلوچستان میں کوئی انڈسٹری کیوں نہیں لگاتے ۔ وہاں کی حکومت تو سرمایہ کاری کو ترس رہی ہے ۔ پہلے تو ارشد نے مجھے اوپر سے نیچے تک یوں دیکھا جیسے میں کوئی مسخرہ ہوں ۔ پھر پوچھتا ہے آر یو سیریس ؟ وہاں تو اس قدر بدامنی ہے کہ جانوں کے لالے پڑے ہیں ۔ میں نے کہا کہ ارشد اگر تم جیسے لوگ وہاں سرمایہ کاری کرتے تو آج بدامنی نہ ہوتی ۔ اس پر ہنس کے کہنے لگا کہ بلوچستان میں تو بس بھیڑ پال انڈسٹری ہی لگ سکتی ہے۔wusat

اس کا مطلب یہ ہے ارشد کہ تم جیسے لوگ بھی جو یونیورسٹی کے زمانے میں بڑے آئڈیالسٹ ہوتے تھے اپنے بزنس میں اتنے غرق ہو کہ کنوئیں کے مینڈک بن چکے ہو ۔ اگر تم جیسے کسی صنعت کار کی نیت ہو تو وہاں کوئلے کے بجلی گھر لگ سکتے ہیں ، قیمتی پتھروں کی تراش خراش اورپالشنگ ہو سکتی ہے۔ اب تم کہو گے کہ کاریگر کہاں سے آئیں گے ۔ کہیں سے نہیں آئیں گے جو تین کاریگر تمہارے ساتھ جائیں گے وہ دس مقامیوں کو جیم سٹون کٹنگ اور پالشنگ سکھا کے واپس چلے آئیں گے۔

بلوچستان میں  تماچار ، مربے ، چٹنی، جوس کا پلانٹ لگا سکتے ہو ، پولٹری فارمنگ کر سکتے ہو ، مرغی ، بھیڑ ، بکرے اور اونٹ کے گوشت کے لئے سلاٹر اور پیکیجنگ پلانٹ قائم کر سکتے ہو ۔ سب سے زیادہ اونٹ بلوچستان میں پائے جاتے ہیں ۔ ان کی کھال کے لیمپ شیڈز اگر ملتان میں بن سکتے ہیں تو ڈیرہ مراد جمالی میں کیوں نہیں ۔ تم چاہو تو  ماربل ، گرینائٹ اور اونیکس کے ہاروں سے لے کر ٹائلز ٹیبل ، گلدان اور سینکڑوں طرح کے ڈیکوریشن پیس تخلیق کر کے مغربی حسیناؤں کا دل موہ سکتے ہو ۔ چلغوزے اور جونیپر کا منقش فرنیچر بنانے کا منصوبہ شروع کرسکتے ہو تم چاہو تو ۔۔۔۔۔

ارشد نے میری تقریر درمیان میں کاٹتے ہوئے کہا میاں شیخ چلی اگر یہ سب ممکن ہے تو پھر اتنے بڑے بلوچستان کی پچانوے فیصد صنعتیں صرف کراچی سے لگے ایک ڈسٹرکٹ لسبیلہ میں ہی کیوں ہیں اور وہ بھی آر سی ڈی ہائی وے پر وندر ، اوتھل اور حب میں کہ جو کراچی کی بغل میں ہے ۔ یہ انرجی پارک ، یہ آئیل ریفائنری ، یہ شب بریکنگ انڈسٹری سونمیانی سے جیونی تک کی سات سو کلو میٹر ساحلی پٹی پر کہیں بھی بن سکتی تھی ۔ گڈانی ہی ان کاموں کے لئے کیوں پسند آتا ہے ۔ ماربل تو بلوچستان کے تیرہ اضلاع میں نکلتا ہے تو پھر ماربل سٹی گڈانی میں ہی کیوں ؟ میاں لورالائی ، پشین ، مکران ، ساراوان ، جھالا وان میں تربیت یافتہ افرادی قوت کہاں سے لاؤ گے ؟ کوئلے کی کان کے مزدور تک تو باہر سے آتے ہیں ۔ سوئی بھی ڈیرہ بگٹی کے بجائے اگر پنجگور کے آس پاس ہوتا تو میں دیکھتا کہ وہاں پی پی ایل گیس کیسے نکال کے باہر پہنچاتی ہے۔

اور کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ بلوچستان میں اب تک جو بھی صنعتی ترقی ہوئی وہ سندھ اور پنجاب کے بارڈر سے لگے ان علاقوں میں ہوئی جو بڑی ہائی ویز سے جڑے ہوئے ہیں ۔ میں ایسی جگہ فیکٹری لگا کے کیا کروں گا جہاں نہ پانی کا کچھ ٹھیک بندوبست ، نہ بجلی کا کوئی بھروسہ ، نہ آمدورفت کے راستے ، نہ آس پاس کوئی صنعتی تربیتی سہولت ، نہ امن و امان کی ضمانت ۔

دیکھو بھائی صنعت صرف وہاں لگ سکتی ہے جہاں بنیادی صنعتی سہولتیں ہوں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ صنعتی سہولتیں ہی سرمایہ کھینچنے کے لئے کافی ہوں ۔ سرمایہ کار سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے مارکیٹ کتنی دور ہے ،  وہاں کتنی آسانی یا مشکل سے پہنچا جاسکتا ہے ۔ لاگت بڑھ گئی تو منافع کا کیا ہوگا ؟ ورنہ تو انڈسٹریل زون ڈیرہ مراد جمالی اور کوئٹہ میں بھی ہے ۔ وہاں اتنے برس میں کتنی صنعتیں لگیں ؟

تم ٹھہرے نرے صحافی جسے انڈسٹری کی الف ب کا پتہ نہیں ۔ بس باتیں کروا لو ۔ اچھا سب باتیں چھوڑو، کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز تینتالیس برس سے فعال ہے ۔ گڑ بڑ تو ابھی دس برس پہلے شروع ہوئی ۔ اس سے پہلے اس چیمبر نے کیا ایسا  تیر مارا کہ  مجھ جیسا سرمایہ کار بھی سوچتا کہ منافع بھلے کم ملے لیکن کوئٹہ بہرحال صنعت کاری کا مستحق ہے۔

پیارے جب تک مقامی لوگ تجارت ، کاشتکاری اور کانکنی کی طرح صنعت کاری میں دلچسپی نہیں لیں گے تب تک باہر والے کیوں آنے لگے ۔ آخر ہم  کیوں کراچی ، اور پنجاب میں کاروبار کرنے کے بجائے ایسے علاقوں میں جائیں جہاں یہی نہ پتہ ہو کہ کل کیا ہونے والا ہے۔

میں نے ارشد سے کہا کہ تمہاری تمام باتیں اور دلائیل وزنی اور معقول ہیں ۔ آئندہ میں تم سے صنعت کہاں ہونی چاہئے کہاں نہیں ہونی چاہئے پرکوئی بقراطی نہیں جھاڑوں گا ۔ مگر ایک کہانی مجھ سے بھی سن لو ۔ تم نے ہرنائی کا نام تو سنا ہی ہوگا ؟

ارشد نے کہاں ہاں ! وہی ہرنائی نہ جہاں چند سال پہلے خوفناک زلزلہ آیا تھا ۔ میں نے کہا نہ صرف زلزلہ آیا تھا بلکہ دو ہزار دس میں زبردست سیلاب بھی آیا تھا ۔ اب آرام سے سنو اور بیچ میں مت ٹوکنا ۔

یہ بات ہے تب کی جب پاکستان کو بنے بمشکل  پانچ سال  ہوئے تھے ۔ نہ آر سی ڈی ہائی وے تھی ، نہ کسی نے حب کا نام سنا تھا ۔ انیس سو باون میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن ( پی آئی ڈی سی ) وجود میں آئی ۔ اس کارپوریشن نے کوئٹہ سے پچانوے کلومیٹر دور پہاڑوں کے بیچ ہرنائی میں بلوچستان کا پہلا صنعتی یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ اس وقت ہرنائی کا بیرونی دنیا سے واحد رابطہ انگریز دورکی سنگل ٹریک ریلوے لائن تھی جو ہرنائی کو ایک سو چھیالیس کلومیٹر پرے سبی سے جوڑتی تھی ۔ اور اس پر کوئلے سے لدی گڈز ٹرین چلتی تھیں۔

مگر پی آئی ڈی سی نے ہرنائی میں اونی کپڑے کا کارخانہ لگانے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ یہاں بھیڑوں کی اچھی خاصی افزائش ہوتی تھی ۔ تمہاری سوچ کے حساب سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہاں سے بھیڑوں کا اون کراچی یا پنجاب کی وولن ملز تک پہنچایا جاتا کیونکہ ہرنائی میں تو بنیادی صنعتی سہولتیں ہی نہیں تھیں ۔ تربیت یافتہ افرادی قوت کا تو خیر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

لیکن  پی آئی ڈی سی کی فلاسفی یہ تھی کہ جب ایک دفعہ فیکٹری کی تعمیر شروع ہوجائے گی تو علاقہ بھی اہم ہوتا جائے گا اور پھر یہاں  ترقی پذیر ڈھانچہ بھی خودرو جنم لینا شروع کردے گا ۔ چنانچہ پی آئی ڈی سی نے اوپر کی مینجمنٹ تو کراچی سے منگوائی لیکن کچھ مقامی افراد کو تربیت کے لئے لارنس پور اور کراچی بجھوایا اور پھر انہیں بطور ماسٹر ٹرینرز ہرنائی میں دیگر مقامی ورکرز کی تربیت پر لگایا ۔ جب تک ہرنائی وولن مل مکمل ہوئی تب تک افرادی قوت کی تربیت بھی مکمل ہوچکی تھی۔

انیس سو پچھتر تک یہ مل منافع بخش رہی ۔ پھر نیشنلائزیشن کے کلچر زدہ بیوروکریٹس کے سبب پی آئی ڈی سی جیسے فعال ادارے کے یونٹس بھی خسارہ دکھانے لگے ۔ انیس سو اٹھاسی میں ہرنائی وولن ملز کو بیمار صنعت بتا کر بند کردیا گیا لیکن تب بھی اس بیمار مل کے اکاؤنٹ میں پچھتر کروڑ روپے جمع تھے ( جو آج نہ جانے کتنے ہو گئے ہوں گے )۔

دو ہزار آٹھ میں تین سو کوارٹروں کی کالونی پر مشتمل تینتالیس ایکڑ پر پھیلی مل کو پی آئی ڈی سی نے نیلام کیا تو صرف ایک کروڑ ستر لاکھ روپے ہاتھ آئے ۔ مقدمے بازی ہوگئی اور مقامی لوگوں نے نیلام میں کامیاب ہونے والی پارٹی کو یہ کہہ کر مشینری نہیں اکھاڑنے دی کہ ہم میں دم ہوا تو ایک دن خود مل چلا لیں گے ۔ آپ تشریف لے جائیں۔۔۔

تو بھائی ارشد اگر صنعتیں صرف ہائی ویز اور بڑے شہروں کے آس پاس ہی چلتی ہیں  تو اب سے چھ عشرے پہلے کے بلوچستان  میں لگنے والی پہلی مل لگ بھگ بیس برس تک کیوں منافع بخش رہی ۔ اس تجربے نے کیا یہ ثابت نہیں کیا  کہ لوگوں پر اعتماد کیا جائے  تو ناممکن بھی ممکن ہے ۔ بلوچستان تو پھر بھی وسائیل سے مالامال ہے ۔ دوبئی میں ساٹھ سال پہلے سوائے ریت اور سمندری پانی کے اور کیا تھا۔۔۔۔

ارشد ترنت بولا ۔کیا آپ مجھ پر طنز فرما رہے ہو۔میں نے کہا نہیں مزاح فرما رہا ہوں۔۔۔چلو چائے پئیو۔۔۔سناؤ بچوں کا کیا حال ہے۔۔۔بھابی کیسی ہیں۔۔۔

1 COMMENT

  1. بولان وولن ملز کی بھی کہانی کافی ملتی جلتی ہے۔ غالبآ اکھٹی ہی بنیں تھیں۔

LEAVE A REPLY