فاروق ملک

صحرائے چولستان میں قلعہ خیر گڑھ آبادی سے میلوں دور ایک ویرانے میں لاغر و نحیف سا کھڑا ہے ایسےلگتاہےقلعےکے برج عنقریب روہی کی ریت میں ملنے والے ہیں ماضی کی کہانی سناتا یہ چھوٹا سا قلعہ دیراوڑ کے قلعے سے 64 میل دور مغرب میں واقع ہے.

بہاولپور گزیٹر کے مطابق یہ قلعہ اختیار خان کے بیٹے حاجی خان مندھانی داؤد پوتہ نے 1776 میں تعمیر کرایاجس کانام قلعہ خیر گڑھ رکھا تھایہ قلعہ بھی چولستان کے دیگر چھوٹے قلعوں کی طرح دفاعی وجوہات کی بناء پر تعمیر کیا گیا تھا.

کہتے ہیں کہ اس قلعے میں جنات کا بسیرا ہے، یہ تباہ حال قلعہ نہ صرف ایک ویرانے میں واقع ہے جہاں کسی آدم زاد کی رہائش نہیں ہے بلکہ یہاں جانوروں کی آلائشیں بھی بکثرت موجود ہیں، قلعے کا شمال مغربی برج آسیب زدہ ہے اور یہاں پر کچھ لوگوں نے چلہ کشی بھی کی ہوئی ہے.

یہ تمام قلعہ کچی اور پکی اینٹوں سے بناہوا تھا اور اس کے اندر ایک پکا تالاب بھی تھا قلعہ کی فصیل کے کچھ حصے پکے بھی تھے داخلی پختہ دروازہ تھا جس کے اوپر رہائشی حصہ بھی تھاقلعے کا داخلی دروازہ تو اب بھی قدرے بہتر حالت میں ہے جس پر پکی اینٹوں سے بنا خوبصورت ڈیزائن آج بھی دیکھا جا سکتا ہےاس مستطیل قلعے کے چاروں کونوں میں مٹی اور اینٹوں سے بنا ایک ایک برج ہے جو تعمیری لحاظ سے خود ایک شاہکار ہیں انکے خوبصورت گول گنبد دیکھنےوالوں کو پہلی ہی نظر میں مبہوت کر دیتےہیں اب قلعے کے درمیان میں ریت اور مٹی کے سوا کچھ نہیں لیکن اسکی دیواریں آج بھی قائم ہیں اور ہمارے اربابِ اختیار خصوصاً “محکمہ آثارِ قدیمہ” کی بے حسی اور لاپرواہی پر منہ چڑا رہی ہیں چونکہ یہ قلعہ چولستان میں ہے اس لئےاس کے مقدر میں ہی نظر اندازی لکھ دی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY