علی ظیف

گزشتہ برس جون میں چترال اس وقت قومی منظرنامے پر نمایاں ہوا جب کیلاش مذہب کی ایک لڑکی کے جبری تبدیلئ مذہب کی خبریں قومی و عالمی میڈیا پر گردش کرنے لگیں جن کے باعث ناصرف کیلاش کمیونٹی کے ارکان اور مقامی مسلمان آبادی کے درمیان تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی بلکہ خبروں کے مطابق مشتعل ہجوم نے کیلاش کمیونٹی کا آبادی کا کئی گھنٹوں تک محاصرہ کیے رکھا جس سے ملک کی اس پرامن کمیونٹی کے ارکان میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ اس لڑکی نے بعدازاں چترال میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبر و یہ تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور اس حوالے سے اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔ لڑکی کے خاندان اور کیلاش کمیونٹی نے اس کے اس بیان کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی اجازت دے دی۔ لیکن اس تشویش ناک واقعہ نے کیلاش کمیونٹی کے حوالے سے موجود خطرات کو نمایاں کیا ہے جن میں مذہبی انتہا پسندی بھی شامل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 1950ء کی دہائی میں کیلاش کمیونٹی کی آبادی 10 ہزار کے لگ بھگ تھی جو بڑھنے کے بجائے کم ہو گئی اور تقریباً سات دہائیاں گزرنے کے بعد یہ مختلف اندازوں کے مطابق چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے جس کے باعث کیلاش کمیونٹی کے معدوم ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

چترال ٹائمز کے مدیر اور کیلاش کمیونٹی کے نمایاں کارکن لیوک رحمت کہتے ہیں:’’کیلاش مذہب کی بنیاد چونکہ زبانی روایات پر ہے اور تعلیمی اداروں میں کیلاش مذہب کے بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا جس کے باعث جب کیلاش کمیونٹی کے بچے دیگر مذاہب کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ان کے مذہب تبدیل کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔‘‘

کیلاش کمیونٹی کے سیاسی رہنما ء اور ضلع کونسل چترال کے رُکن عمران کبیر کہتے ہیں:’’مذہبی انتہا پسندوں سے درپیش خطرات کے باعث بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد مذہب تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔‘‘

کیلاش کمیونٹی چترال کی تین وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر میں گزشہ کئی صدیوں سے پرامن طور پر آباد ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی نے کیلاش کمیونٹی پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں جسے یونیسکو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ عمران کبیر بتاتے ہیں:’’یہ درست ہے کہ سکیورٹی کے مسائل موجود ہیں۔ گزشتہ برس ڈاکوؤں نے کیلاش کمیونٹی کی اکثریت کو ان کے مویشیوں سے محروم کر دیا جو کیلاش ثقافت میں نہایت اہم ہیں کیوں کہ کیلاش مذہب میں قربانی کے تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن حکومت کی جانب سے کیلاش کمیونٹی کو کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔‘‘

انسانی حقوق کے کارکن گزشتہ طویل عرصہ سے کیلاش کمیونٹی کے تحفظ اور ان کی ثقافت و روایات کو بچانے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ 2014ء میں طالبان کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں کیلاش کمیونٹی کو دھمکایا گیا تھا۔ گزشتہ برس بھی ایسے کچھ واقعات ہوئے ہیں جن کے باعث کیلاش کمیونٹی کے ارکان کے خوف میں اضافہ ہو گیا ہے اور وہ تحریری طور پر حکومت سے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں مزید نہیں رہنا چاہتے۔

کیلاش کمیونٹی کے کارکنوں نے ’پاک وائسز‘ سے بات کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ کیلاش کمیونٹی کے خلاف جب بھی کوئی کارروائی کی گئی ہے تو کبھی اس کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حال ہی میں نوعمر لڑکی کے تبدیلئ مذہب کے معاملے کی بھی درست طور پر تفتیش نہیں کی گئی۔

چترال ٹائمز کے مدیر اور کیلاش کمیونٹی کے نمایاں کارکن رحمت کہتے ہیں:”اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کیلاش کمیونٹی کے لیے خطرات موجود ہیں جس کی ایک وجہ سرحد پار سے ہونے والی نقل و حرکت بھی ہے۔” انہوں نے کیلاش کمیونٹی کی الگ شناخت تسلیم کرنے پر زور دیا اور کہا:”اطلاعات ہیں کہ رواں برس ہونے جا رہی مردم شماری میں کیلاش مذہب و زبان کو الگ الگ تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی سرکاری دستاویزات میں کیلاش کمیونٹی کی الگ شناخت تسلیم کی گئی ہے۔” وہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے سابق صوبائی وزیر برائے پاپولیشن ویلفیئر اور حلقے سے منتخب ہونے والے پیپلز پارٹی کے رُکن صوبائی اسمبلی سلیم خان نے ‘پاک وائسز’ سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ سرحد پار سے آنے والے مذہبی انتہا پسند عناصر کیلاش کمیونٹی کے ارکان کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے کیلاش کمیونٹی کے کچھ ارکان کو قتل بھی کیا اور ان کے مویشی ان سے چھین لیے۔ ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے کیلاش کمیونٹی کے تحفظ کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تو انہوں نے کہا:’’کیلاش کمیونٹی سال میں تین تہوار مناتی ہے جن پر حکومت کی جانب سے انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے جب کہ عام دنوں میں بھی ہم کیلاش کمیونٹی کی سکیورٹی کا پورا خیال رکھتے ہیں۔‘‘

کیلاش کمیونٹی کے سیاسی رہنما اور ضلع کونسل چترال کے رُکن عمران کبیر بتاتے ہیں:’’کیلاش کمیونٹی کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی پولیس فورس تشکیل دی جا رہی ہے جو 110 ارکان پر مشتمل ہو گی جس میں سے 60 کیلاش کمیونٹی سے بھرتی کیے گئے ہیں۔‘‘

چند ہزار نفوس پر مشتمل کیلاش کمیونٹی پاکستانی ثقافت کی ایک اہم علامت ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ لواری ٹنل کھل جانے کے بعد کیلاش کمیونٹی کے تہواروں پر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گی۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ حکومت ناصرف کیلاش کمیونٹی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات کرے بلکہ ان کے تحفظات بھی دور کیے جائیں تا کہ آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں جب کمیونٹی کے ارکان اپنی ہی دھرتی سے چلے جانے پر مجبور ہو جائیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ سکندرِاعظم کے ساتھ اس دھرتی پر آئے یا ان کا تعلق تاجکستان کے علاقے بدخشاں سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اس سرزمین پہ صدیوں سے آباد ہیں اور یہ اب حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔

LEAVE A REPLY