صداقت بلوچ

وزیراعلیٰ بلوچستان کے دورہ گوادر کے موقع پر کلانچی پاڑہ خالی کرانے کے احکامات پر انتظامیہ نے عمل درآمد شروع کردیا. گذشتہ روز گوادر کے کلانچی محلہ کے مکینوں کو انتظامیہ کے جانب سے نوٹسز جاری کئے گئے ہیں جن میں کلانچی محلہ کے مکینوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ھدایت کی گئی ہے کہ زمین کے کاغذات پیش کئے جائیں ورنہ ایک ہفتے کے اندر اندر زمین خالی کردی جائے ورنہ گھر مسمار کر دیئے جائیں گے

واضع رہے کلانچی محلہ گوادر کی اہم ہاؤسنگ پروجیکٹ نیو ٹاؤن اور شمبے سمائل سے مفصل اور گوادر پورٹ سے نو کلومیٹر کے مفاصلے پر واقع ہے جہاں لوگ 1985 سے رہائش پزیر ہیں جس کی آبادی 3000 سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جو بجلی پانی سمیت تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں 2007 اور 2013 کو بورڈ آف ریونیو نے مزکورہ محلہ سمیت شمبے سمائیل اور جنوبی آنکاڑہ کی بارہ ھزار سے زائد زمیں کی سٹیلیمنٹ کو غیرقانونی قرار دیکر حکومت بلوچستان کے نام کردیا تھا وزیراعلیٰ بلوچستان کے حالیہ دورہ گوادر کے موقع پر دو سو ایکڑ سے زائد اراضی پر آباد کلانچی محلہ کے مکینوں کو بے دخل کرکے دوسری جگہ ایڈجسٹ کرنے کے احکامات صادر کئے تھے جس پر انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ عمل درآمد شروع کردیا گیا

پہلے مرحلے میں یہاں کے مکینوں کو ایک ہفتے کے اندر گھر خالی کرنے کی ھدایت کردی ہے کہ بصورت دیگر گھر مسمار کردیئے جائیں گے جس سے علاقہ مکینوں میں تشویش پایا جاتا ہے کہ حکومت بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے تین ھزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے بےدخل کیا جارہا ہے

LEAVE A REPLY