جی آر جنیجو، مٹھی 

تھرپارکر ضلعے کا تعلقہ ننگرپارکر تفریحی مقامات اور آثار قدیمہ سے بھرا ہوا ہے یہاں پر قدیم  دور کی کئی عمارتیں آج بھی زندہ ہیں جن میں بھوڈیسر گائوں کے جین دھرم کے مندر سب سے قدیم شمار کیے جاتے ہیں۔۔

 ان عمارتوں پر ایسی مہارت سے کام کیا گیا ھے جو دست تراشی کی انمول نشانی ہیں اور آثارِ قدیمہ کا عظیم ورثہ ہیں ۔تاریخ کے مطابق سندھ کا صحرائی علاقہ تھر کسی دور میں جین دھر م کے لوگوں کا مسکن ہوا کرتا تھا۔

مگر اب صرف ان کے یادگار مندر جین دھرم کے لوگوں کا ہونے کا احساس دلاتے ہیں ۔ یہ مندر بھی اب مخدوش ہونے لگے ہیں ۔۔تقریبا 600سال قبل مسیح میں مہاویر نامی شخص نے جین دھرم کی بنیاد رکھی تھی۔ جین دھرم کے مندروں  سمیت تاریخی مقامات حکومتی توجہی کا شکار ہو رہے ہیں۔

سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے آنے والے سیاح اور علاقے کے نوجوان ان عمارتوں کی چھتوں اور گنبدوں پر چڑھتے ہیں جس کے نتیجے میں پتھروں سے تراشی ہوئی یہ عمارتیں بکھرتی جا رہی ہیں ۔ان عمارتوں کے صحن سمیت قیمتی مورتیاں اور سنگ تراشے مجسمے بھی غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

اگر جین مت کے ماننے والوں کے مندروں کو محفوظ بنایا جائے تو اس سے مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ مقامی معشیت بھی مضبوط ہوگی ۔

رائیٹر کے بارے میں: جی آر جونیجو پاک وائسز کے ساتھ مٹھی شہر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

تصاویر: جی آر جونیجو

LEAVE A REPLY