نذر عباس

پاک وائسز، رحیم یار خان

ماہرین آثار و قدیمہ کے مطابق چولستان کی پہچان اسلام گڑھ کے قلعہ کی بنیادوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔فوٹو :نذر عباس۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے  صحرائی علاقے چولستان کے 29 تاریخی قلعوں میں سے چار سو سال پرانا قلعہ  اسلام گڑھ  ملبے کے ڈھیر  میں تبدیل ہونے لگا ہے۔

قلعہ اسلام گڑھ کو  انڈیا کے علاقے جیسلمیر کے حکمران بھیم سنگھ نے 1608میں تعمیر کرایا تھا۔

 یہ قلعہ رحیم یارخان سےنوے   کلومیٹر دور شمال مشرق میں پاکستان انڈیا کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ قلعے کی فصیل پر  بنے  برجوں کی تعداد  اور سائز مختلف ہیں ۔فصیل کی اونچائی 45 فٹ تک ہے اور چوڑائی 10سے 12 فٹ ہے

قلعہ کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ان کو مزید نقصان سے بچانے لیے بھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔فوٹو: نذر عباس

 مسلم حکمران افتخار خان سند الہئی نے1780میں اس قلعہ کو فتح کر کے اسلام گڑھ کا نام دیا- اس قلعے کا پرانا نام قلعہ بھیم وار اور علاقے کا پرانا نام سمابت تھا- پاک بھارت سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے 1971 کی جنگ میں اسے شدید نقصان پہنچا تھا۔

ماہرین آثارو قدیمہ نے قلعہ کا نام و نشان ہی مٹ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ فوٹو: نذر عباس

لیکن اس کی بحالی کی جانب توجہ نہ دینے کی وجہ سے اب یہ ایک بوسیدہ عمارت میں تبدیل ہو چکا ہے۔  سرائیکی دانش وار امان اللہ ارشد کا کہنا ہے پنجاب حکومت چولستان میں موجود تاریخی اثاثوں کی طرف توجہ نہیں دے رہی جس کی وجہ سے اسلام گڑھ جیسے تاریخی اور قدیمی ورثہ اپنا وجود ختم کرتے جا رہے ہیں اور یہ چولستان کی ایک پہچان بھی۔

قلعہ کے مختلف حصے بری طرح سے متاثر ہو چکے ہیں جنہیں واپس اصل حالت میں بحال کرنا ممکن نہیں رہا۔ فوٹو: نذر عباس

 ہر ملک و قوم اپنے آثار قدیمہ پر فخر کرتیی ہے کیونکہ یہ ان کی تاریخ کی ایک علامت سمجھتی جاتی ہے لیکن پاکستان میں چار سو برس پرانے اس قلعے کو محفوظ کرنے کی ذمہ داری کسی بھی ادارے پر نہیں ہے۔ ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے  ہزاروں پر کشش اور تاریخی مقامات میں سے ایک مقام چولستان کا بھی ہے۔

رائیٹر کا تعارف:نذر عباس رحیم یار خان سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔

ایڈیٹنگ:محمد عظیم

LEAVE A REPLY