جی آر جونیجو

تھرپارکر مذھبی رواداری کا خطہ ھے جہاں پر ھندو مسلم مل کر غمی اور خوشی مناتے ھیں ھولی کے رنگ ھو یا محرم الحرام کی مجلسیں ھندو مسلم اکٹھے ھوتے ھیں جب سے محرم شروع ھوتا ھے تو ھندو بھائی بھی مجلسوں میں جاتے ھیں قافلوں کا حصہ ھوتے ھیں کافی بارگاہوں پر نیاز کا بندوبست بھی شہر کے ھندو کرتے ھیں خاص طور پر نو اور دس محرم کے قافلوں کے گذر گاہوں پر ھندو برادری سبیلیں لگاتی ھے۔

تھرپارکر کا مرکزی شہر مٹھی ھے جہاں پر ھندو آبادی اکثریت میں ھے یہاں کہ ھندو تمام امام بارگاہوں اور درگاہوں سے عقیدت کا رشتہ رکھتے صرف رشتہ نہیں بلکہ وہ تمام درگاہوں اور امام بارگاہوں کے تمام بندوبست بھی کرتے ھیں یے روایت کئی دہائیوں سے چلی آتی ھے۔

تھر کہ ایک انتخابی حلقہ جہاں پر مسلم آبادی اکثریت مین ھے جہاں پر قومی اسیمبلی کی جنرل نشست پر مھیش ملانی کامیاب ھوئے ھیں مھیش ملانی بھی شہر کے امام بارگاہوں میں جاتے ھیں اگلی سال جب محرم کے قافلے نکلے تو وہ ان میں بھی شریک ھوئا تھا

مٹھی کی سونارہ برادری کے جواھر سونی کا کہنا ھے کہ چاند دیکھنے سے لیکر دس محرم الحرام تک سب اکٹھے ھوتے ھیں سبیلیں لگاتے ھیں نیاز کرتے ھیں اور کوئی بھی تفریق نہیں کرتے ھمارے بزرگ ھستی بابا گرونانک نے بھی یہی کہا ھے کہ حسین ان کا ھے جس کے پاس ضمیر ھے ھن بھی یہی مانتے ھیں کہ حسین بھادری سچائی اور ضمیر کا نام ھے.

مِٹھی میں ہندوؤں کی محرم کی رسموں میں حصہ لینے کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ اور اس کی بنیاد سندھ کی صوفی ثقافت سے جڑی ہے اور یہ دوسرے علاقوں میں بڑھتی ہوئی مذہبی نفرتوں اور دوریوں کے باوجود آج بھی زندہ ہے۔

گووند کھتری جس کا گھر بھی مٹھی کی شعیب ابوطالب امام بارگاہ کے قریب ھے گووند کا کہنا ھے کہ ھم بچے تھے تب ھمیں بڑہ شوق سے نیاز کا انتظار ھوتا تھا اور ھم امام بارگاہ میں انتظار کرتے تھے بس ھمیں حسین سے محبت ھے جو ھمیں اپنی بچپن سے والدین سے ملی ھے تھر میں ھم کوئی مذھب نہیں رکھتے بس ھم صرف حسینی ھوتے ھیں۔

شیعہ کمیونٹی کے مراد علی بجیر کا کہنا ھے کہ ھم سب ایک ھیں یہاں کے ھندو بھائی ھمارے ساتھ ھوتے ھیں یہی حسینیت کا پیغام ھے حسین ضمیر کا نام ھے۔

مٹھی کی دلیپ چوھان اور چندر کانت بھی قافلوں کا حصہ ھوتے ھیں وہ امام بارگاہوں میں جاتے ھے محرم الحرام کی عزت احترام کرتے ھیں۔ ان کا کہنا ھے کہ یہاں پر اپنی آزادی سے زندگی گذار رھے ھیں ھم مجلسوں امام بارگاہوں میں جاتے ھیں ھمیں کوئی نہیں روکتا ھم سبیلیں لگاتے ھیں حسین ھمیں سچ کی لگن لگتا ھے۔ جب بھی قافلہ نکلتا ھے تو ھم اس میں ھر صورت میں شریک ھوتے ھیں

مٹھی کی ملوک شاہ امام بارگاہ میں تو ھندو کمیونٹی کی بڑی تعداد میں خواتین بھی اگربتی کرنے آتی ھیں اور جب قافلہ نکلتا ھے اور گلیوں سے گذرتا ھے تو وہ عقیدت سے اس کو دیکھنا کے لیئے کھڑی ھوتی ھیں

نو محرم کی شام امام بارگاہ ملوک شاہ سے تعزیہ نکالا جاتا ہے۔ تو ہندو اس تعزیے کو مسلمانوں کے ساتھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔

اس طرح ھی یہاں کے مسلمان بھی اپنے ھندو بھائیوں سے محبت اور احترام کا رشتہ رکھتے ھیں امام بارگاہوں کے دروازے ھندو برادری کے لیئے کھلے رکھتے ھیں اور نیاز ایک ھی پلیٹ میں کرتے ھیں ایسا ھی تھر کا حسن ھے جس نے پوری دنیا پر غلبہ قائم رکھا ھے آج جہاں اس پورے ایشیائی خطی میں نفرتیں کی آوازیں ھیں وہیں تھر کی رواداری پورے دنیا کے لیئے اعلی مثال ھے

LEAVE A REPLY