جس زبان کو آج ہم سرائیکی جانتے ہیں ، لگ بھگ سات عشرے پہلے تک علاقائی لہجے میں فرق کی نسبت سے یہ زبان کئی ناموں سے معروف تھی۔ میانوالی ، ڈیرہ اسماعیل خان سے دادو تک دریائے سندھ کے دائیں اور بائیں آباد بلوچ اور کچھ غیر بلوچ قبائل ، کوہ سلمان کے دوسری جانب سبی کے میدانوں تک اور پھر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے اچھرو تھر ( سفید تھر ) کی گہرائی تک اور پنجاب میں ماجھے سے نیچے بہنے والے دریاؤں کے اطراف بستیوں سے راجستھان سے جا ملنے والے چولستان تک سرائیکی کے ہی تو مختلف لہجے سننے کو ملتے ہیں۔

سندھ اور سبی تک اگر یہ بلوچکی تھی تو دامانِ کوہِ سلیمان  والے اسے دیرے والی سمجھتے تھے ، ملتان کے آس پاس یہ ملتانی تھی تو اٹھارویں صدی میں جنم لینے والی داؤد پوترا ریاست بہاولپور میں یہ ریاستی بن گئی ۔( داؤد پوتروں کے کلہوڑے چچیرے  اسے بلوچکی اور ان کے بعد کوہِ سلیمان کے دامان سے سندھ  میں آ  کر حکمرانی کرنے والے تالپور اسے دیرے والی سمجھتے رہے ) ۔

البتہ یہ قدرتی امر تھا کہ سندھ تا سبی اس بلوچکی پر سندھی و بلوچ لسانی اثرات نے اسے ملتانی ، ریاستی اور ڈیرے والی سے مختلف لہجہ دیا۔ جیسے بنوں اور ڈی آئی خان کی زبان پر پشتو کے اثرات نے اسے پنجابی زدہ کھڑی میانوال سرائیکی سے الگ لہجہ عطا کیا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک ہی بولی عہدِ قدیم سے مختلف رنگوں میں ایک وسیع خطے میں زندہ  ہے کہ جسے اب سرائیکی جنرک نام کی بڑی سی چھتری میسر ہے۔

اب رہا یہ معاملہ کہ سرائیکی لسانی و ثقافتی وجود جیسی کوئی وسیع اور جامع سیاسی و قومیتی شناخت کا بھی وجود ہے ؟ یہ جاننے کے لئے ایک ٹیسٹ کرتے ہیں۔

سندھ میں آپ کسی بھی زرداری ، کھوسے ، چانڈیو ، جتوئی سے پوچھیں تم  سرائیکی ہو ، بلوچ  کہ سندھی ؟ ننانوے فیصد جواب ملے گا بابا میں سندھی بلوچ ہوں اور گھر میں سرائیکی بولتا ہوں ۔ کم و بیش یہی جواب سبی کی سرائیکی/بلوچ  بیلٹ میں بھی ملےگا۔

( اسی کنفیوژن کے سبب انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری میں سرائیکیوں کی ملک گیر تعداد صرف چودہ ملین بتائی گئی حالانکہ سرائیکی زبان کا جغرافیائی دائرہ اس سے کہیں بڑا ہے ۔چودہ ملین سے زائد سرائیکی بولنے والے تو صرف سندھ میں ہی ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر اپنی لسانی شناخت سندھی ہی سمجھتے ہیں )۔

سن ساٹھ کی دہائی تک جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی لسانی ، نسلی اور سیاسی شناخت کو علیحدہ علیحدہ  خانوں میں رکھا جاتا تھا ۔ وہ تو بھلا ہو سائیں ریاض ہاشمی ، استاد فدا حسین گادی اور ان کے فکری و سیاسی وارثوں کا  کہ آج کم ازکم جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنوں کی حد تک سرائیکی ثقافتی شناخت نے سیاسی شناخت کی مستحکم شکل لے لی ۔

تو کیا ثقافتی و سیاسی شناخت کے حصول کے بعد اگلا مرحلہ انتظامی خود مختاری کا ہے ؟ ہونا تو یہی چاہئے مگر یہاں تک پہنچتے پہنچتے راستے اور پگڈنڈیاں باہم گڈمڈ ہو جاتے ہیں ۔

انیس سو انہتر تک وسیبی سطح پر اگر کوئی قابلِ ذکر سیاسی ہل چل ہوئی تو ون یونٹ کے خلاف قومی مزاحمت اور پھر بہاولپور صوبہ بحالی تحریک کی شکل میں ہوئی کہ جسے ریاست کے سابق شاہی خاندان کی سرپرستی بھی حاصل تھی ۔ بہاولپور متحدہ محاذ کے حمائتیوں میں اکثریتی مقامی باشندوں سے لے کر اٹھارہ سو چھیاسی کے بعد سے ستلج ویلی پروجیکٹ کے ساتھ آنے والے پنجابی کاشتکاروں اور بعد ازاں شمالی ہندوستان کے اردو بولنے والے ہنرمندوں سمیت سب ہی شامل تھے۔

ویسے بھی بہاولپور کا مقدمہ اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے ایک عام آدمی کے لئے خاصا طاقتور تھا ۔ یعنی جب ون یونٹ ٹوٹا تو اس نے بلوچستا ن کا نیا صوبہ پیدا کیا مگر بہاولپور نامی پرانا صوبہ غائب کردیا۔سوال یہ تھا کہ بہاولپور کہاں گیا ؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر پاکستان میں شامل ہونے والے اولین وفادار ریاستی حکمران کی مالی و سیاسی قربانیوں اور وفاداریوں کا یہی  صلہ ہے  تو پھر انصاف کے نعرے پر بننے والے پاکستان میں انصاف کس سے مانگا جائے۔

اس سینہ زوری کے خلاف چلنے والی تحریک اتنی شدید تھی کہ بھاشانی سے مودودی تک دائیں اور بائیں بازو کی تقریباً ہر سرکردہ سیاسی شخصیت نے بہاول پور متحدہ محاذ کے منشور کی تائید کی۔ ستر کے انتخابات میں بہاولپور ڈویژن میں پڑنے والے ایک ملین ووٹوں میں سے ستر فیصد محاذ کے حمائیت یافتہ امیدواروں کو پڑے ۔ محاذ اگر انتخابات کے بعد برقرار رہتا تو  نئی اسمبلی میں ایک طاقتور پارلیمانی بلاک ثابت ہو سکتا تھا اور قیادت کی ثابت قدمی بہاولپور صوبہ بحال کروا سکتی تھی۔

پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے ۔ جن پے تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ۔ کسی کو گورنری مل گئی ، کسی کو وزارت ، کسی نے زرعی اصلاحات سے اراضی بچا لی تو کسی نے سفارت پکڑ لی تو کوئی ڈرا دیا گیا یا خود سے ڈر گیا اور بہت سے سرگرم کارکن اس بندربانٹ اور مفاداتی سودے بازی سے دل برداشتہ اپنے آئڈیل ازم  کے ہمراہ گوشہ نشین ہوگئے ۔ یوں ایک شاندار تحریک کا جنازہ تحریک والوں نے ہی پڑھ ڈالا۔

اور پھر کئی برس کے سناٹے سے رفتہ رفتہ سرائیکی سیاسی شناخت کی کونپل پھوٹی لیکن اس کے درخت بننے کا انتظار کرنے سے پہلے ہی بکریوں نے پتے چبانے شروع کردئیے ۔ کبھی اس پودے کو پانی ملا کبھی نہیں ملا ، کبھی کھاد ڈلی کبھی نہ ڈلی ، کبھی کسی نے تھوڑی بہت تراش خراش کی پھر ایسے ہی چھوڑ دیا ۔ درخت بڑھا تو سہی مگر ٹنڈ منڈ ۔

کامریڈ اسرار الحق مجاز سے کسی نے پوچھا ہندوستان میں انقلاب کب آئے گا ؟ مجاز صاحب نے کہا انقلاب تو کل آجائے  مگر کیمونسٹ راستہ روکے ہوئے ہیں۔

میرے سرائیکی قوم پرست دوستوں میں انفرادی سطح پر ایک سے ایک انسانی ہیرا ملے گا ۔ مگر اجتماعی طور پر یہ ایک کنفیوز امت ہے ۔ان میں سے اکثر اصل دشمن سے محتاط رہنے کے بجائے زیادہ تر ایک دوسرے سے محتاط رہتے ہیں ۔ زمینی حقائق کیا ہیں ؟ یہ ان قلندروں کا دردِ سر نہیں۔انہوں نے اپنی اپنی سیاسی دنیا بسا رکھی ہے اور یہ سب اس دنیا  کے مست راجہ ۔ان کی اپنی اپنی خواہشاتی تھیوریاں اور نقشے بازیاں ہیں۔کچھ اوکاڑہ تا ٹھٹہ اور بنوں تا سبی اپنی سرائکستانی خواہشاتی پرکار گھماتے رہتے ہیں۔کچھ میانوالی تا صادق آباد کو ہی سرائیکی جغرافیہ سمجھتے ہیں ۔کچھ چاہتے ہیں کہ اٹھارہ سو اٹھارہ میں رنجیت سنگھ کے صوبہ ملتان پر قبضے سے پہلے اس صوبے کی جو حدود تھیں وہی حدود چاہئیں۔( مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر متحدہ پنجاب کے حامیوں نے رنجیت سنگھ والا پنجاب مانگ لیا تو کیا ہوگا ۔ کیونکہ وہ پنجاب تو پشاور تا دلی اور لاہور تا کشمیر پھیلا ہوا تھا )۔

چند قناعت پسند قوم پرستوں کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب کے تین انتظامی ڈویژن ہی اگر علیحدہ صوبہ بن جائیں تو بھی غنیمت ہے ۔ اور کچھ صرف بہاول پور ڈویژن کو ہی پوری دنیا جانتے ہیں ۔

جنوبی پنجاب میں بھلے درجن بھر قوم پرست جماعتیں سہی البتہ ایک قدر مشترک ہے ۔ آج تک کسی امیدوار نے براستہ بیلٹ بکس ہزار کا ہندسہ پار نہیں کیا ۔اور قومی و صوبائی سطح پر ایک سیٹ بھی گرم نہیں کی ۔ پھر بھی دعوی آدھے پاکستان پر اور بقراطی آسمان پر ۔۔۔

جہاں تک جنوبی پنجاب کی مین سٹریم سیاسی قیادت کا معاملہ ہے تو اس وقت یہاں جو جو قدیم و جدید خانوادے چھائے ہوئے ہیں ان کا سیاسی ڈی این اے دورِ مغلیہ سے آج تک جوں کا توں ہے ۔ یعنی یہ بادشاہ مرگیا تو وہ بادشاہ زندہ باد ۔ وہ اپنے خاندانی ، روحانی ،  جغرافیائی ، معاشی مفاداتی دائرے سے باہر نکل کے عملاً کوئی قدم آزادانہ طور پر اٹھانے کی صلاحیت سے جبلی سطح  پر عاری ہیں ۔ وہ مثالی سیاسی ماتحت ہیں ، وہ صرف دعا کرسکتے ہیں ، زبانی بیان جاری کرسکتے ہیں ، لسانی قابلیت کے سبز باغ میں گھما سکتے ہیں اور جب جب ان کی سیاسی ، سماجی و معاشی تسلط کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلکا سا خطرہ بھی محسوس ہو فوراً  آنکھیں ماتھے پے رکھ کے انفرادی و خاندانی بقا کا کمبل اوڑھ لیتے ہیں ۔( اب ایک ایک کا نام کیا لینا )۔

تقریباً چالیس برس بعد جنوبی پنجاب سرائیکی صوبے کے معاملے پر دو ہزار بارہ میں کچھ ہل جل ہوئی جب اچانک سے پیپلز پارٹی اپنی پچانوے فیصد مدتِ اقتدار گذار کے اگلے عام انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہڑبڑا کر نئے صوبے کا لالی پاپ لے آئی ۔ مگر اس موقع پسند سولو فلائٹ نے زمانے کے ہاتھوں مسلسل ڈسے سرائیکیوں پر بال برابر اثر نہیں کیا ۔ اور پھر پیپلز پارٹی کی گیم خراب کرنے کے لئے بہاولپور جنوبی پنجاب کا نعرہ لگا کر لاہوری گروپ بھی کود پڑا اور پھر صرف بہاولپور صوبے کے نعرے کے ساتھ ایک اور اسٹیبلشمنٹی گروہ بھی بذریعہ پیراشوٹ میدان میں اتار دیا گیا ۔

جب ششدر تماشائیوں نے دیکھا کہ اس فلم میں تو میاں برادران ، چوہدری برادران ، محمد علی درانی ، بچے کھچے شاہی خاندان کے چند  بزرگ اور یوسف رضا گیلانی اینڈ کمپنی جیسے منجھے ہوئے پھیپھن اداکار ہیں تو تماشائیوں نے فلم کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سیاسی بلوغت کے ساتھ انجوائے کرنا شروع کردیا ۔ اور جس جماعت نے اہلِ جنوبی پنجاب سے یہ جذباتی مذاق شرطیہ نئی کاپی بتا کے شروع کیا تھا اسے تماشائیوں نے عبرت ناک انتخابی خاک چٹوا دی۔

تو کیا ان حالات میں جنوبی پنجاب کبھی الگ صوبہ بنے گا۔ ہاں بن جائے گا اگر اللہ کے کرم سے اسٹیبلشمنٹ  کو ضرورت ہوئی ۔ اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ صوبہ بھی بنے اور آپ کی مرضی سے بھی بنے۔۔۔۔

( تب تک تاج گوپانگ ، عاشق بزدار ، عزیز شاہد ، نذیر فیض مگی ، اشو لال اور شاکر شجاع آبادی کے کلامِ با کمال اور حکایاتِ سعید منڈھا  پر گزارہ کیجئے )۔

22 COMMENTS

  1. سرائیکی صوبہ بن کے رہے گا ۔ سرائیکی صوبہ اسٹیبلشمنٹ کی بھی اب ضرورت بن گیا ہے۔ حملہ اور کیا دعویٰ کر سکتے ہیں ؟ کیا عرب سندھ پر دعویٰ کریں ؟ کیا مقدونیہ والے ملتان پر دعویٰ کریں ترکی والے یعنی سلطنت عثمانیہ کی حدود کہاں تک تھی مصر بھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا بھائی جان ؟ کیا مغل ہندستان پر دعویٰ کریں ؟ کیا ایرانی ہندستان پر دعویٰ کریں افغان ، ایران ، عرب ، ترکی ، مقدونیہ ، وحشی تاتاری کیوں سمٹ گئے ہیں ؟ اپنے اپنے ملک بچانے پر لگے ہوئیے ہیں؟ کیا آپکو فارس کی حدود کا پتہ ہے کہاں پر ختم ہوتی تھی ؟ فارس کی حدود کہاں تک تھی ؟ اچھا ایک منٹ وسعت اللہ خان یہودی خطہ کہاں تک پھیلا ہوا تھا معلوم ہو گا نا ؟ اج بھی یہودی کیا دعویٰ کرتے ہیں ؟ عرب ، اسرائیل جنگ کا اصل تناظر معلوم ہے نا وسعت اللہ خان ؟ تاریخ کو اپ جھٹلا نہیں سکتے حملہ اور ہمیشہ حملہ آور ہوتا ہے اسکا کام صرف لوٹ مار ہوتا ہے ۔ سرائیکی ڄغرافیے پر قابض پنجابی اور بلوچ پسپا ہونگے ۔ انکی اپنی بقا خطرے سے دوچار ہونے والی ہے ۔ رہے گیا پنجابی ؟ پنجابی قومتی ، ثقافتی گروہ نہیں ہے وسعت اللہ خان بلکہ پنجابی ہندو ثقافت کا جز ہیں اور پنجابی ایک لسانی گروہ کے بجائے مذہبی گروہ ہیں ۔

    • Waisay yeh ap ne nafrat ka izhar ziada kia hai aur haqeeqat kam biyan ki hai, no doubt punjabi pakistan p qabiz hn mgr woh muslaman hn koi hindu nhi hn. Zarorat es bat ki hai pakistan kay her citizen ka es mulak p brabar haq ho.

      • بھائی عابد بات نفرت کی کہاں ہے ؟ میں نے ایسا کچھ نہیں کا جو مغالطہ پیدا کرتا ہوں ۔ پنجابی کی اکثریت ہندو دھرم کا جز ہے اپ اسے سکھ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس وجہ سے پنجابی اپکو عیسائی ، یہودی ، سکھ ، ہندو ، مسلم سب میں ملتا ہے ۔ پنجابی ایک مذہبی گروہ ہے جسکا قومیت ، لسانیت ، جغرافیہ سے تعلق نہیں ہے ۔ میں یہ بات مانتا ہوں پنجابی ثقافتی گروہ کے بجائے مذہبی گروہ کا حصہ ہیں ۔

        • عابد بھائی پنجابی ہندو قومتی گروہ کا جز ہیں اپ پنجابی کو ہندو قومیت سے الگ نہیں کر سکتے ۔ ہندو قومیت کی بنیاد پر ہندستان میں برسر اقتدار ہیں اسکے علاوہ دوسرے قومتی
          گروہ جیسے کیرلہ ، اردو بولنے ، راجستانی ، بھی متحرک ہیں لیکن کیونکہ ہندو
          اکثریت میں اس وجہ سے انکی حکومت رہتی ہے ۔ پنجابی ہندستان ہندو قومیت کی وجہ سے ہندستان کی کابینہ کا حصہ ہیں اسکے علاوہ سکھ کیونکہ ہندو قومیت کا حصہ ہیں اس وجہ سے سکھ ہندو قومیت کو پسند کرتے ہیں ۔ پنجابی خالصتان کا نعرہ لگا کر سکھ کو الگ قومیت بنانا چاہتے ہیں لیکن ہندو سکھ کو خود سے الگ نہیں کرنا چاہتا یہ خواب باتیں نہیں ہیں نہ ڈرامائی باتیں ہیں یہ باتیں حقیقت ہیں جسکا ہمیں پہلے سے ادراک ہونا چاہیے تاکہ مقررہ وقت پر انکا تدراک ہو سکے ۔

  2. saraiki punjabi ka aik lehja hae,koi alag qom ya zuban nehi,multani zuban par saraiki ka thappa laga kar ess ko alag qom banane ka muqsat punjab ki taqseem ka jawaz paida karna hae,ess makroo sazish main urdu bolne sahafi or mqm jaisee partiaan bi shamil hain,tak punjabi ki akhsariat khatam kar k urdu ki baladasti qaim ki jaa sakai,or baad main aik urdu sooba bo banaya ja sakai,shame on you and your yellow journalism,

    • Kon kehta hai Saraiki zuban Punjabi Zuban ka lehja hai? Saraiki aik separate zuban aur culture hai, aur alag province ka mutalba bhe bilkul darust hai. Es mi ki burai hai agr logoin ki hakumat unk qareeb ho. Sab log Pakistan sy piyar krty hn, separate province sy murad koi separate mulak nhi. Yeh punjabi log jo samjhtay hn k wohi muheb e watan Pakistani hn, yeh unka demagh kharab ha. Hum un sy ziada pakistani hn.

    • بھائی اپ ایسے کہہ رہے جیسے بکری نے ہاتھی سے نکاح کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہو ۔ پنجابی پہلے عدالت کوں پنجابی قاعدہ تو پیش کریں ۔ بھائی فیصل جب فرست ملے عدالت میں جا کر پنجابی کا قاعدہ جج کو پیش کر دینا ۔ اور پنجابی کا قاعدہ مریخ سے منگوا لینا ورنہ ایلین کی خدمات حاصل کرلینا ۔

  3. سرائیکستان ایک حقیقت ہے ۔ تحریک میں ہزار خامیاں صحیح لیکن تحریک اتنی گرم ضرور ہے کہ بھائی وسعت اللد کو قلم اُٹھانے پر مجبور کردیا ہے ۔ اس بلدیاتی اتنخابات میں سرائیکی تحریک پارلیمانی سیاست کا آغا ز کررہی ہے ۔ بلدیاتی اتنخابات کے بعد میں وسعت اللد بھائی کو سرائیکی تحریک کے دوستوں کے نتائج ضرور شیئر کروں گا۔ تاکہ وہ نیا کالم تحریر کرسکیں۔اور اس مظلوم قوم کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔ وسعت اللد بھائی اس وقت سامراجی قوتیں اپنے عروج پر ہیں لیکن ہم نہ مایوس ہوئے ہیں اور نہ تھکے ہیں ۔ ہم سرائیکی قوم کو پنجاب کے جبر سے آزاد کرکے دم لیں گے ۔

  4. naam nihad saraiki nationalist indian agent hain,yeh naam nihad saraiki sindh or balochistan man rehne walai saraikioo ka naam nehi laite,sindh main 40% log saraiki hain wahan soobe ka naam kyon nehi laite wahan pasmandi bi ziada hae or saraiki bi wahan boli jaati hae,hum punjab main multani bolte hain humahara saraiki se kia wasta,yeh fake nationalist sirf punjab main halata kharab karna chahatai hain,in main se kuch ppp or mqm k agent hain or kuch india k tankhawadar.

    • Hamare han fatway bazi aur hr dosry admi ko Indian agents kahny ki riwayat pe qaim namnihad mohib-e-watan logon se Allah pak is mulk ko bachaye. Naye soby , hamari qomi zarorat hain or is se ziyada deer aghmaz baratna , mulk doshmani hy.

    • .jb koi apni alag identity ki baat karta hai pakistan m wo india ka agent ho jata hai…..ppp gae bharh m or mqm bhi….so what if some1 want to have sme cultural identity above prejudice let them have it……..yahi kaam hum ne baloch nationals k sath kia aj ye din a gaey hn now plzzz dnt call it anti pak compaign rather b a part of it and strengthen the pakistan….

  5. مبارک ہو سرائیکی میں پی ایچ ڈی کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ جو دوست سرائیکی میں ایم فل کرچکے ہیں وہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں سرائیکی ریسرچ سنٹر رابطہ کریں۔ سرائیکی میں لوگ اتنے آگ بڑھ چکے ہیں ۔ اور آج کے دور کے سید ہیں کہ اب کیا کہوں ؟ میں سیدوں کو بہت احترام کرتا ہوں۔

  6. سرائیکی قومیت پر جبری انتقال قومیت مسلط کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے قبائل جنکا تعلق سرائیکی قوم سے ہے وہ خود کو بلوچ کہنے لگے ہیں ۔ یہ ڈر خوف کی وجہ سے ہوا ہے حملہ اور کے ڈر کی وجہ سے ۔ کیونکہ بلوچ عمان کے اور ایران کے راستے داخل ہوئے اور علاقوں کو روندتے ہوئے ہندستان جا پہنچے ۔ اس وقت اپنی جان بچانے کے لے لوگوں کے قبائل کے قبائل یا گروہ کے گروہ بلوچوں میں شامل ہوئے تھے اور اج تک بلوچ شمار ہوتے آئے ہیں ۔ یہ قبائل یا گروہ جنکا تعلق سرائیکی قومیت سے ہیں بدترین استحصال کا شکار ہیں بدترین ذہنی غلام کا شکار ہیں ان قبائل کو اپنی قومیت سے جدا کر کے دوسری قومیت کا حصہ بنا دیا گیا ہے جہاں جہاں پر سرائیکی اکثریت میں تھے وہاں پر مختلف قومتی بنیاد پر اپنی شناخت بچانے میں کامیاب ہوئے لیکن بلوچستان میں بلوچ کا حصہ بنا دیئے گئے سرائیکی میں کہا جاتا ہے ” ظلم دے اگو زاری ہے ” یہ اسی نفسیات کو ظاہر کرتی ہے کہ ظلم کے اگے ہاتھ جوڑ دیئے گئے یہ بھی بڑی بات یہ ہے یہ قبائل اج بھی سرائیکی زبان بولتے ہیں اور سرائیکی ثقافت کا حصہ ہیں اج ہم دیکھتے ہیں یہ سرائیکی زبان اور سرائیکی ثقافت کا حصہ ہیں بھلے یہ بلوچ ، یاں سندھی کہلائیں لیکن بولتے سرائیکی ہی ہیں اور سرائیکی ثقافت کا حصہ ہیں ۔ سرائیکی زبان بولنے / اور سرائیکی قومتی ثقافت کا حصہ ہونے کی وجہ سے انکا شمار سرائیکی قوم میں ہو گا ۔ انکا تعلق بلوچوں سے وجبی ہے یہ نا پہلے بلوچ تھے نہ اج بلوچ ہیں ۔

  7. Me Sriky bolta hon, but kbi bi lisani bonyad par soba k support ni karon ga, Aaj tak konsa is ilaqe k siysatdano koe kam kia jo bad men karen ge, woe andron sindh ka jo haal he woe phr hamara hal ho ga

    • کاش آپ سب لوگ مسلمان بھی ہوتے۰ میری یہ راۓ ہے کہ آج ہی آپ لوگ کلمہ پڑھ کے مسلمان ہوں خدا کے غضب سے ڈریں اور اس صوبے میں رہنے کی فکر کریں جسے قبر کہتے ہیں اور ہم کئ لوگوں کو روزانہ اس صوبے میں جاتا دیکھتے ہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے چھوڑ کر آتے ہیں کہ یہ کہیں دوبارہ ہمارے صوبے میں واپس نہ آجائے بیشک وہ ہمارے ماں باپ، بھائ بہن ہی کیوں نہ ہوں۰ اسلام ہمارا دین ہے اور وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارا کوئ صوبہ نہیں بلکہ اللہ کی بنائ ہوئ تمام زمین ہماری ہے۰ اور دوسری بات یہ کہ جب روزی روٹی کا ذمہ خود اللہ تعالی نے اٹھایا ہوا ہے تو کوئ کسی کا حق کیسے کھا سکتا ہے۰ اور آپ خود سوچیں کہ کیا سرائیکی پنجابی یا کوئ اور قوم بننے میں آپ کا اپنا کوئ کمال ہے۰ بالکل نہیں۰ آپ لوگ صرف یہ شکر کریں اللہ نے آپ کو کسی ہندو سکھ یا عیسائ کے گھر پیدا نہیں کیا اور مسلمان کے گھر پیدا کیا ہے۰ ہمارے پیارے مذہب اسلام کی بنیادی تعلیمات میں ہے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فوقیت حاصل نہیں جبکہ ہم نے لسانی نفرتوں کا بازار گرم کر رکھا ہے اور مسلمان ہونے کے بلندوبانگ دعوے کرتے ہیں۰اب بھی وقت ہے سمجھ جاؤ ورنہ اب کوئ سمجھانے نہیں آئے گا۰

LEAVE A REPLY